Monday, 21 September 2015

ابرہیمؑ اور خانوادهٔ ابرہیمؑ

ابرہیمؑ اور خانوادهٔ ابرہیمؑ

ازقلم: چاہت محمد قاسمی مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ سہارنپور یوپی انڈیا

ابتلا و آزمائش کے سینکڑوں قصے ہیں، ایثار و قربانی کی ہزاروں داستانیں ہیں، اورفداکاری و فرمابرداری کی بے شمار کہانیاں  ہیں لیکن اپنے محبوب کے لئے ایثار و قربانی کا جو نمونہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں نظر آتا ہے، اس کی مثال تو کجا اس کے اثرات بھی کہیں اور پائے جانے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہیں۔
اللّٰہ تعالی نے قرآن کریم کے اندر 25 سورتوں کی 63 آیات میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ فرمایا ہے۔ کہیں " فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الخ جیسی آیتوں کے ذریعہ غیراللہ کی معبودیت کی نفی اور اللہ تعالی کی ربوبیت کو ثابت کرنے کا ذکر ہے، تو کہیں اللہ تعالی نے "واتل علیہم نبأ ابراھیم الخ" جیسے رکوع کے اندار سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والے مکالمہ کا تذکرہ کیا ہے، کہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام "اذ قال لابیہ یا ابت لم تعبد مالا یسمع الخ" کے ذریعہ اپنے والد کو دعوت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں، تو کسی جگہ قرآن نے الم تر الی الذی حاج ابراھیم فی ربہ ‌الخ" کے ذریعہ نمرود کے دربار میں اس خردماغ بادشاہ کا تکبر و غرور خاک میں ملانے کو بیان کیا ہے،  کہیں قرآن نے "فراغ علھم ضربا بالیمین الخ" بیان کرکے ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ بت شکنی کا نقشہ بڑے فصیح انداز میں کھینچا ہے، تو کبھی کافر و مشرک قوم "حرقوہ و انصرو آلھتکم " کہہ کر اپنی قوم کو پکارتے ہوئے نظر آتی ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دو، دہکتے ہوئے انگاروں کے حوالے کردو، اور کبھی باپ "لئن لم تنتہ لارجمنک واھجرنی ملیا" کہکر ابراہیم علیہ السلام کو سنگسار کرنے کی دھمکی دے کر ھجرت کرنے پر مجبور کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ بہر حال سینکڑوں امتحانات ہوئے، ہزاروں ابتلا و آزمائش کے دور سے گزرے، بہت سی بار آزمائے گئے، لیکن پھر بھی کوئی سستی نہیں، کوئی سرتابی نہیں، کوئی فرار نہیں، کہیں عذر نہیں،  کبھی جھجک نہیں، بلکہ جب بھی حکم ہوتا ہے فورا سر نگوں ہوتا ہے، جہاں بھی احکام جاری ہوتے ہیں وہیں اطاعت کے لئے تیار نظر آتے ہیں، جس وقت بھی فرامین سنائی دیتے ہیں اسی وقت اعمال کے لئے تیار ہوجاتے ہیں، جب بھی اسلم کی صدا آتی ہے اسلمت لرب العالمین پکار اٹھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خدا وند قدوس اپنے خلیل کے متعلق فرماتا ہے: وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ…… جب ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کردیا۔
بہت سے امتحانات کے بعد ایک بڑے امتحان کی تیاری شروع ہوتی ہے، اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام دعا کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور بار گاہ ایزدی میں عرض کرتے ہیں "رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ"(‌اے میرے رب! مجھے نیک بخت اوﻻد عطا فرما) فورا رب کریم کی رحمت جوش میں آتی ہے، اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی بشارت سنائی جاتی ہے، پڑھاپے کی حالت میں ایک سہارا نصیب ہوتا ہے، آنکھوں کا تارا دل کا سکون پیدا ہوتا ہے، ایک ایسا باپ جس کو عمر کا بڑا حصہ گذرنے کے بعد ایک دلارا عطا ہوتا ہے، آپ تصور کیجئے وہ کیسے کیسے ‌چاؤ کرتا ہوگا، کس کس طرح پیار جتاتا ہوگا لیکن ابھی بچے سے طبیعت سیر بھی نہیں ہوتی، بے قرار دل کو قرار بھی نہیں ملتا، بوڑھے دل کو سکون بھی نہیں ملتا کہ بے آب و گیاہ چٹیل میدان میں چھوڑ آنے کا فرمان جاری ہوتا ہے، فورا سر تسلیم خم کرتے ہیں اور بیٹے کو ماں کے ساتھ ایک اونٹنی پر سوار کرکے ایک ایسے میدان میں چھوڑ آتے ہیں جہاں نہ کوئی آدم ہے نہ آدم زاد، نہ سایہ ہے نہ پانی، ہُو کا عالم ہے، ہر طرف وحشت برستی ہے، ابراہیم علیہ السلام کی بیوی سیدہ ھاجرہ رضی اللہ عنہا بھی صبر و استقامت کی پیکر اللہ کی رضا پر راضی ہوجاتی ہیں، سبحان اللہ کتنا عظیم گھرانہ ہے، ہر فرد مطیع اور فرما بردار نظر آتا ہے،رحمت خدا وندی جوش میں آتی ہے، جب بچہ پیاس کی وجہ سے ایڈیاں رگڑتا ہے تو ممتا کی ماری ماں صفا اور مروہ پر دوڑ لگاتی ہے،اللہ تبارک و تعالی اس ننھے بچے کی ایڈیوں کی رگڑ کے ذریعہ پتھریلی زمین سے پانی جاری کرتا ہے، چٹان سے وہ چشمہ ابالتا ہے، جس کا پانی رحمت ہی رحمت ہے۔

قصۂ مختصر: جب اسماعیل علیہ السلام کچھ اور بڑے ہو گئے، باتوں کو سمجھنے لگے، اور پاؤں پاؤں چلنے لگے بلکہ بعض مفسرین کے مطابق بلوغیت کی حدود پار کرنے لگے تو قرآن کہتا ہے: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ انی اذبحک: پھر جب وه (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے، تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔
اللہ اللہ ایک باپ اپنے بچے کو خدا کا پیغام سنا رہا ہے (نبی کا خواب بھی حکم خدا وندی ہے) اپنے لخت جگر، نور نظر کو ذبح کرنے کا حکم سنا رہا ہے، جان لینے کا فرمان سنا رہا ہے، اور کہتا ہے: فَانْظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ اف!!! کس چیز پر رائے طلب کی جارہی ہے؟؟ قتل کے اوپر رائے مانگی جارہی ہے، موت کے فرمان پر دستخط کرائے جارہے ہیں، اور کس سے پوچھا جارہا ہے؟؟ ایک معصوم بچہ ہے، جو جانتا ہے، سانس کا رشتہ ہے، منٹوں میں ختم ہوجائے گا، زندہ وجود نعش میں تبدیل ہوجائے گا، مارنے والا کوئی غیر نہیں باپ ہوگا، مرنے والا کوئی دوسرا نہیں بیٹا ہوگا ایک بے زبان جانور بھی جان بچانے کے لئے جدو جہد کرتا ہے، یہاں تو معاملہ ایک انسان کا ہے، لیکن سبحان اللہ یہ خانوادۂ ابراہیمی کا چمکتا دمکتا ستارہ تھا، جو اپنے باپ کی فرما برداری، جاں نثاری اور اطاعت گذرای جانتا تھا، لہذا بلا جھجک کہتا ہے…… قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ۔…… : بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا ﻻئیے انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
نیک بیٹے کے ایثار و قربانی سے لبریز جواب کے بعد باپ کمر کس لیتا ہے، آستین میں چھری چھپا لیتا ہے، ماں  نہلاتی دھلاتی اور خوشبو میں بساتی ہے، شیطان بھی اپنی چال چلتا اور خوب بہکاتا ہے، ورغلاتا ہے، کبھی ماں کی ممتا کو بھڑکاتا ہے، کبھی باپ کی محبت کو جوش دلاتا ہے، اور کبھی بچے کو قتل سے ڈراتا ہے، شاید اس کو معلوم نہیں کہ یہ خانوادۂ ابراہیمی ہے، اطاعت جس کی پہچان ہے، ایثار و قربانی جس کی شان ہے۔
لہذا باپ بیٹے کو سوئے مقتل لئے جارہا ہے، یقینا فرشتوں نے بھی یہ منظر دیکھ کر رشک کیا ہوگا، انہوں نے اس اشرف المخلوقات کا اعتراف کیا ہوگا۔ مقتل پر پہنچ کر بیٹا باپ کی خدمت میں عرض کرتا ہے، ابا جان مجھے پیشانی کے بل لٹا دینا مبادا آپ کی محبت جوش میں آجائے، ارادہ کمزور پڑجائے، اطاعت پر آنچ آجائے بہرحال انسان ہیں، دل میں میری محبت موجزن ہے، لہذا قران نقشہ کھینچتا ہے: فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ…… غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی کے بل گرا دیا۔

سبحان اللہ!! لیکن یہاں تو ذبح کرانا مقصود نہ تھا، بلکہ اطاعت کا نمونہ دکھانا تھا، محبت سے روشناس کرانا تھا، کہ عشق اسکو کہتے ہیں، پیار اس کو کہتے ہیں، اور یہی اطاعت مطلوب ہے، یہی عشق منظور ہے۔ارشاد ہوتا ہے: قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ…… یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا، بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں…… إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ…… درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا…… وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ…… اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا۔ …… ایک دنبہ جنت سے بھیج کر اللہ تعالی نے اس کو قربان کرایا اور پھر اس سنت ابراہمی کو ہمیشہ ہمیش کے لئے زندہ فرماکر اس مذکورہ امتحان کی یادگار بنایا۔
لہذا ہم سب کو چاہئے کہ اس عظیم موقع جانور کی قربانی کا نذرانہ پیش کرکے ظاہر کردیں کہ اے اللہ سب کچھ مال و دولت، بیوی بچے وغیرہ تیرا عطا کردہ ہے، لہذا جب جس کی قربانی کا حکم آئے گا ان شاء اللہ تعالی تیری راہ میں قربان کردیا جائے گا۔

دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی

Thursday, 17 September 2015

بے جا تشدد اور شدت پسندی ہمیشہ حالات بگاڑتی ہے

بے جا تشدد اور شدت پسندی ہمیشہ حالات بگاڑتی ہے

ازقلم: چاہت محمد قاسمی مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ سہارنپور یوپی انڈیا

بے جا تشدد اور شدت پسندی ہمیشہ حالات بگاڑتی ہے اور ماحول خراب کرتی ہے، آج مسلمان جمہوری ملک میں رہ کر خلافت راشدہ جیسے قوانین کے طلب گار ہیں، خود نماز نہ پڑھیں، مسجدوں کے سامنے ڈھول بجائیں، مدرسوں کے سامنے رنڈی رچائیں، اور نماز کے وقت مسجد کی برابر میں ڈی جے بجائیں گویا یہ مسلمانوں کا حق ہے، اور مسلمانوں کے لئے ایسا کرنا جائز ہی نہیں بلکہ کار ثواب ہونا چاہئے، میں ضلع بجنور کے ایک مدرسہ میں پڑھاتا تھا، مدرسہ کے پڑوسیوں نے پوری رات مدرسہ کے سامنے رنڈیاں نچائی تھی، کوئی ان کو روکنے والا نہیں تھا، کوئی ان کے سامنے صد سکندری بن کر کھڑا نہیں ہوا، لیکن آپ بتائیں کہ اگر یہی کام کسی غیر مسلم نے کیا ہوتا تو حالات کیا ہوتے؟
گذشتہ رمضان میں ایک جگہ جانا ہوا، پورے شہر میں اسپیکر لگادیے گئے تھے، ادھر سحری کا وقت شروع ہوتا اور ادھر ان کی قوالیاں شروع ہوجاتی، تقریبا دو، ڈھائی گھنٹے قوالیاں جاری رہتی، ان کا بند ہونا سحری کے وقت کے  ختم ہونے کی نشانی تھی، آواز اتنی بلند ہوتی تھی کہ کیا مجال کہ اس وقت ہم نے سوکر دیکھا ہو یا نفل و غیرہ یکسوئی کے ساتھ ادا کرسکے ہوں۔ اگر یہی کام کسی غیر نے کیا ہوتا تو فساد شروع ہوجاتا

ابھی کچھ دن قبل زلزلوں کا سلسلہ جاری تھا، بہت سے لوگ مارے گئے، بہت سے زخمی ہوئے اور بہت سے بے گھر ہوئے لیکن ہمارے محلہ میں ایک شب ڈی جے بجتا رہا، مسجد بھی پاس ہی تھی، میں بھی اپنے کمرے میں کروٹے بدلتا رہا، کئی بار غصہ بھی آیا، دل بھی دکھا، آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہوئے لیکن کسی کو کوئی پرواہ نہ ہوئی کیوں کہ ڈی جے بجانے والے مسلمان تھے، تقریبا ایک مہینے قبل مدرسہ کے قریب ایک مسلمان بھائی کے گھر سے گانے کی آواز آتی رہی، ادھر نماز ہوتی رہی لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگتی ، کسی غصہ نہ آیا، کسی نے مذکورہ اشخاص میں سے کسی کا گریبان نہ پکڑا، ایسوں کے دروازے پر کچھ لوگ اکھٹا ہوکر نہ گئے۔
مدرسہ سے کچھ ہی دوری پر ایک مندر ہے، جو ہمیشہ ویران رہتا ہے، لیکن ابھی چند دن قبل کسی مخصوص تہوار کے موقع پر مندر میں ڈی جے بجایا گیا، چند دن کا تہوار تھا، ڈی جے بجتا رہا، چند لوگ میرے پاس اکھٹے ہوکر آئے، مولانا صاحب!!! میں نے ان سے کہا تھا کہ نماز کے وقت مت بجانا۔ دوسرا بولا مولانا صاحب!!! چلو سب اکھٹے ہوکر چلتے ہیں اور اسکو اتروا دیتے ہیں۔ میں نے کہا مسلمان تم سے رکتے نہیں، چلے ہو دوسروں پر جہاد کا اختیار جمانے، پہلے اپنے بھائیوں کو دیکھو، مسجد مدرسہ کے آس پاس کیا کیا گل کھلاتے ہیں، اب تو یہ لوگ 3 روز ڈی جے بجا کر گھروں کو واپس ہوجائیں گے لیکن اگر تم نے بے جا تشدد کیا، سختی دکھائی تو وہ لوگ ضد پر اتر آئیں گے، پھر پورے سال ڈی جے بجتا رہے گا اور تم کچھ بھی نہیں کر پاؤگے، اور اسے بجانے والا ان کا ہیرو ہوگا۔ اور یہی لوگ جو اب ہمیں ایکتا کا درس دیتے ہیں کل فرقہ پرست بن جائیں گے۔
آپ اپنے آس پاس دیکھ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کا کیا حال ہے، کعبہ ان کا، ان کے باپ کا، پوری دنیا کا بیع نامہ انہیں کے نام ہے، پھر چاہے یہ سیاہ کریں یا سفید کریں۔

دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی

Sunday, 13 September 2015

موبائل میں اردو کے لئے آسان طریقہ

ملٹی لنگ او کیبورڈ کی خصوصیات اور سیٹنگ

📝 راہی حجازی

اردو لکھنے کے باب میں تقریبا تمام ہی کیبورڈز استعمال کئے، مگر جو مختلف الجہات خوبیاں ملٹی لنگ او کیبورڈ میں نظر آئیں وہ کسی اور کیبورڈ میں دیکھنے کو نہ ملیں۔جیسے اوٹو ٹیکسٹ فیچر،ذاتی کیبورڈ بنانے کی سہولت، حجم ایک ایم بی سے بھی کم۔ میرے ناقص خیال میں اپنے فیچرز اور گوناگوں خوبیوں کی بنا پہ ملٹی لنگ او کیبورڈ اینڈرائڈ میں سب سے عمدہ کیبورڈ ہے۔ آئیے اسکی انسٹالیشن و سیٹنگ کرتے ہیں

سب سے پہلے کیبورڈ انسٹال کیجئے 👇

My App link (sent via MyAppSharer) - https://play.google.com/store/apps/details?id=kl.ime.oh

یہ اردو ورڈ سجیشن ڈکشنری کا پلگ ان 👇

My App link (sent via MyAppSharer) - MK Urdu Plugin: https://play.google.com/store/apps/details?id=klye.plugin.ur

عربی کی ورڈ سجیشن ڈکشنری بھی انسٹال کرنا چاہتے ہیں تو یہ پلگ ان 👇

My App link (sent via MyAppSharer) - MK Arabic Plugin: https://play.google.com/store/apps/details?id=klye.plugin.ar

اور اگر خالص انگلش بھی لکھتے ہیں اور اسکی بھی ورڈ سجیشن ڈکشنری چاہئے تو یہ رہا پلگ ان 👇

My App link (sent via MyAppSharer) - Language.English: https://play.google.com/store/apps/details?id=klye.plugin.en

یہ اوٹو ٹیکسٹ کا پلگ ان 👇

My App link (sent via MyAppSharer) - AutoText|NextWord: https://play.google.com/store/apps/details?id=klye.usertext

چند باتیں

❶ اوٹو ٹیکسٹ ایک فیچر ہے جس میں بڑے جملے یا بکثرت لکھے جانے والے جملے کوڈ دیکر سیو کئے جاتے ہیں۔ جیسے السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ کا کوڈ  اگر سلام دیں تو صرف سلام لکھنے سے مکمل سلام سجیشن بار پہ نظر آجائے گا۔۔۔۔ پس جن جملوں کو بار بار لکھنے کی ضرورت پیش آتی ہو انکو اوٹو ٹیکسٹ کی پٹاری میں جمع کرنا مفید ہوتا ہے

جمع کرنے کیلئے کیبورڈ کے بالکل نیچے انتہائی بائیں جانب سیٹنگ کا آئیکون بنا ہوا ہوگا اس پہ انگلی رکھیں اور انگلی اٹھائے بغیر بہت سارے اوپشنز میں سے اوٹو ٹیکسٹ کے اوپشن تک انگلی کو ڈریگ کریں، اوٹو ٹیکسٹ تک کھینچتے ہوئے لے جائیں، اوٹو ٹیکسٹ میں جب آپ پہنچ جائیں تو بالکل اوپر دائیں جانب تین نقطے نظر آئیں گے اسے پریس کیجئے، ایڈ ٹیکسٹ آئے گا اسے پریس کیجئے ۔ ایڈ ٹیکسٹ کو پریس کرنے کے بعد دو خانے سامنے آئیں گے، پہلے والے خانے میں کوڈ (مثلا: سلام) لکھنا ہے اور دوسرے والے خانے میں جملہ (مثلا: السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ) لکھنا ہے۔ لیجئے ایک جملہ محفوظ ہوگیا۔ بس اسی طرح جملے محفوظ کرتے چلے جائیے

❷ آپ کے کیبورڈ میں چونکہ سجیشن ورڈز ڈکشنری اون ہے اس لئے جملہ لکھتے وقت جب آپ ایک لفظ مکمل کریں تو اس کے بعد اسپیس پہ انگلی نا ماریں کہ اس میں غلطیاں ہونے کے امکان ہیں۔ لفظ مکمل کرنے کے بعد سامنے سجیشن کی جو پٹی ہے اس میں آپ کا لفظ سامنے دکھ رہا ہوگا اسے پریس کرتے چلیں۔ اور اگر کوئی ایسا نیا لفظ لکھیں جو سجیشن ورڈز ڈکشنری میں نہ ہو تو لفظ لکھنے کے بعد اپنے لکھے ہوئے پہ انگلی ماردیں، وہ محفوظ ہوجائے گا۔ محفوظ ہونے کی علامت لفظ کا پیلے کلر میں ہوجانا ہے

❸ کیبورڈ اگر چھوٹا بڑا کرنا چاہیں تو جو سجیشن بار ہے اسکے بائیں کونے میں انگلی رکھیں اور انگلی کو اٹھائے بغیر اوپر نیچے کھینچیں،کیبورڈ چھوٹا بڑا ہوجائے گا

Thursday, 10 September 2015

نماز پڑھو اس سے پہلے کہ آپ کی نماز پڑھی جائے۔

نماز پڑھو اس سے پہلے کہ آپ کی نماز پڑھی جائے۔

ازقلم: چاہت محمد قاسمی مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ

بعض دفعہ کسی کی زبان سے نکلنے والے الفاظ، سامنے والے کے دل پر سیدھے اور گہرے نقوش مرتب کرتے ہیں، پھر دن، ہفتے سال اور دھائیاں گذرنے کے بعد بھی وہ نقوش ماند اور ہلکے نہیں پڑتے، خواہ وہ بات آپ نے قبل ازیں ہزاروں، لاکھوں، اور کروڑوں مرتبہ ہی کیوں نہ سنی ہو، شاید یہ شعر بر محل ہوگا:

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

دہلی میں میرے ایک خاص دوست نے اپنا واقعہ سنایا کہ ایک رات بر بنائے علالت ان پر بہت سخت گذری، رات بھر منہ سے نکلنے والے اضطراری الفاظ "ہائے ہائے" بدن میں شدید تکلیف کا پتا دیتے تھے، بیوی بیچاری پاکباز، بہت خدمت گذار، بے بسی کی حالت میں حیران و پریشان اور شوہر کی محبت میں ہلکان، لاچار و مجبور، بار، بار، طرح طرح کے جتن کرتی، لیکن مصلحت خداوندی کہ ہر جتن بے کار ہوجاتا، اور شدید درد میں بالکل بھی آرام میسر نہ ہوتا، درد کی شدت اس قدر حاوی تھی کہ بیوی کے قرب، نرم بستر، اور ہر طرح کی سہولت کے باوجود نیند کا بالکل بھی احساس نہ ہوتا، لیکن صبح صادق کے وقت ناجانے پریشان انسان کو کیسے قرار آیا، سخت تکلیف اور شدید درد میں نیند کا خمار آیا۔
جب آنکھ کھلی تو معلوم ہوا، نور کا تڑکا سورج کی حدت و تپش میں تبدیل ہوچکا ہے، ہر چار سو پھیلی ہوئی روشنی نماز کے قضا ہونے کی خبر دے رہی تھی۔
بس یہ حال دیکھا تو ایک چیخ مار کر اٹھ بیٹھا، بیوی کو آواز لگائی: ارے اللہ کی بندی یہ کیا ہوا؟ نماز قضا ہوگئی؟ تونے مجھے بیدار کیوں نہ کیا؟
بیوی نے محبت و لجاجت کے ساتھ عرض کیا: میرے سرتاج آپ پوری رات پریشان رہے، درد سے تڑپتے رہے، آپ کو بالکل بھی آرام نہ ملا لیکن نماز سے کچھ دیر قبل آپ کی اچانک آنکھ لگ گئی، شاید نیند کا نشہ درد کے شدید احساس پر حاوی ہوگیا تھا، اس لئے میں نے سوچا: آپ ابھی سوئے ہیں، نیز بیماری کی وجہ سے آپ کے لئے اجازت بھی نکل سکتی ہے، تو میرا تصور تھا کہ آپ کو آرام کرنے دیا جائے، بعد میں نماز ادا کرلی جائے گی۔
اس پر میرے دوست نے خاص جملہ کہا، جو شاید ہم نے بھی بار بار سنا تھا، اور آپ نے بھی سنا ہوگا، لیکن وہ جملہ میرے دل پر آج تک گہرائی کے ساتھ نقش ہے:

ہائے یہ تو نے کیا کردیا؟ اگر خدا نہ خواستہ مجھے اس حال میں موت آجاتی تو ذرا سوچ میں اللہ کے حضور بے نمازی کی حالت میں حاضر ہوتا۔ اس وقت میں اللہ کو کیا منہ دکھاتا، تونے میرے ساتھ یہ کوئی بھلائی نہیں کی، خدارا آئندہ ایسا مت کرنا، بلکہ بیماری کی حالت میں تو نماز مزید خشوع اور خضوع کے ساتھ ادا کرنی چاہئے، کہ مبادا یہ نماز آخری نماز ہو۔

بھائیو۔!! یہی وہ الفاظ تھے جنہوں نے مجھے جھنجھوڑ ڈالا اور ہمیشہ ہمیش کے لئے دل پر گویا جم ہی گئے۔

یہ الفاظ آپ حضرات کے لئے بھی مشعل راہ ثابت ہوسکتے ہیں، نیز غور کر نے کا مقام ہے، جو لوگ نماز میں سستی کرتے ہیں، یا پھر ذرا سی بیماری کی وجہ سے نماز چھوڑ دیتے ہیں، ذرا وہ لوگ بلکہ ہم سب انسان اپنا محاسبہ کریں کہ اللہ کے کیسے کیسے بندے ہیں، اور اللہ کے یہ بندے ہر حال میں اللہ کو یاد رکھتے ہیں، بس آپ سبھی حضرات سے التجا ہے کہ کبھی نماز نہ چھوڑیں، چونکہ نماز دین کا ایک اہم ستون ہے، انسانوں کے چہرے کا نور، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک، اور کفر و اسلام کے درمیان آڑ ہے، نیز اس کے محض قضا کرنے پر سخت وعیدوں کا ذکر ہے، چھوڑنا تو گنتی و شمار ہی میں نہیں۔ چھوڑنے سے اللہ ہمیشہ حفاظت فرمائے۔ آپ کو یہ بھی فیصلہ کرنا ہے، کہ موت جو کبھی بھی، کہیں بھی، کسی بھی حالت میں دبوچ سکتی ہے، اس کے بعد ہمیں رب العزت کے دربار میں کس حال میں حاضر ہونا چاہئے، نمازی یا بے نمازی؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
میرے لئے بھی دعا کریں کہ صحیح طریقے سے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی نماز کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین

دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی

Wednesday, 2 September 2015

الدکتور مولانا راشد الندوی کی بابرکت شادی

ایک بابرکت شادی

شادی میں سادگی ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

ازقلم: چاہت محمد قاسمی مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ سہارنپور

میں نے دروازہ کھولا اور افراد مجلس پر نظر ڈالے بغیر آداب محفل کا خیال کرتے ہوئے دروازے کے قریب پڑے ہوئے صوفہ پر فورا بیٹھ گیا، میرا گمان تھا کہ اگر میں اپنی شناسا شخصیت کو تلاش کروں گا تو شاید ممکن ہے، میرا تجسس دیکھ کر لوگوں کا ذہن منتشر ہو، اور بعض لوگ اس کو نا گوار بھی محسوس کریں، جو آداب محفل کے خلاف تھا، لیکن بیٹھنے کے بعد ابھی میں نے مجلس کا جائزہ نہیں لیا تھا کہ اچانک پوری محفل استقبال کے لئے کھڑی ہوچکی تھی، اور تقریبا سب ہی افراد باشرع مع اسلامی وضع قطع چہرے پر بشاشت اور خوشی کی جھلکیوں سے پر خوبصورت مسکراہٹ لئے ہوئے میری طرف متوجہ اور مصافحہ کرنے کے لئے تیار کھڑے تھے، خیر مجھے پھر دوبارہ کھڑے ہوکر سب سے باری باری مصافحہ کرنا پڑا؛ علیک سلیک اور مختصر تعارف کے بعد ہم سب دوبارہ صوفوں پر بیٹھ گئے، میں نے ایک اچٹتی ہوئی نگاہ سلیقے سے سجائے گئے کمرہ پر ڈالی اور صوفوں پر بیٹھے ہوئے افراد کا جائزہ لیا، تو معلوم ہوا کہ ماشاء اللہ تعالی سبھی افراد سادگی کے باوجود پر وقار اور با عزت علماء کرام تھے، اور بعد میں معلوم ہوا کہ سبھی علماء کرام ماشاء اللہ تعالی نوجوان ہونے کے ساتھ اپنے علوم میں ماہر، باہنر اور خدمت دین میں لگے ہوئے تھے، ان میں سے ہر ایک دوسرے کو فوقیت دینے والا اور دوسرے کی عزت کرنے والا محسوس ہوتا تھا، یہاں سبھی حضرات ایک ہی صف میں بیٹھے ہوئے بڑے نورانی نورانی لگ رہے تھے، انہیں کے درمیان ایک ایسے نوجوان عالم دین بھی براجمان تھے، جن کے لئے اج کا دن بڑا ہی اہم، یاد گار اور خوبصورت دن تھا، ایک ایسا دن جس میں لوگ سجتے ہیں، سنورتے ہیں، کہیں گالوں پر جدید انداز کی کریم تو کہیں ماتھے پر سہرا سجاتے ہیں، مہنگے جوتے، مہنگے کپڑے اور مہنگے ہار کے ساتھ خود دلہا بھی مہنگا ہوجاتا ہے، لیکن سبحان اللہ تعالی یہ دلہا تو نبی کا جانشین اور نبی کا وارث دلہا تھا، نہ مہنگے کپڑے نہ مہنگا لباس، نہ چہرے پر مہنگی کریم کے گھسے، نہ مہنگا ہار اور نہ سہرا؛ یہ تو سنت نبوی کا عاشق، سادہ مزاج، خوبصورت انداز، دلربا مسکان، اور پروقار مزاج کا حامل میرا پرانا دوست دلہا تھا، مزید جانئے کہ اس شادی میں سادگی کا کیا انداز تھا، یہ دلہا تو ہفتوں سے حیدرآباد میں مقیم تھا، شادی طے ہوئی اچانک فون پہنچا: جہاں ہو، جیسے ہو، جس حال میں ہو فورا دھلی چلے آؤ!!! دلہا رات میں دھلی پہنچا، ایک مدرسہ میں ٹہرا، آہ سبحان اللہ تعالی ایک عالم کے لئے، دین کے شیدائی کے لئے، علم کے پروانے کے لئے مدرسہ سے زیادہ کوئی جائے سکوں ہوسکتی ہے؟؟
صبح کی کرن نئی نوید لے کر آئی، اور دور سہارنپور سے ایک بارات آئی، نہیں، نہیں، اس کو بارات کہنا ان پاکیزہ نفوس کی جماعت کی توہین ہوگی، کیوں کہ بارات تو وہ ہوتی ہے، جو نئے کپڑوں میں ملبوس سنت کا جنازہ نکال کرآتی ہے، بدعت و خرافات کا ڈنکے کے چوٹ پر ارتکاب کرکے آتی ہے، جو رسوم و رواج سے سج سنور کر آتی ہے، جس میں ایک مہنگا، سجا، سنورا، شو پیس، اور ناز و نخرے کا حامل دلہا بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں تو سادگی ہی سادگی تھی، اور ہلدی لگے نہ پھٹکری رنگ آئے چوکھا چوکھا، بالکل یہی حالت تھی طرفین کے اخرجات مختصر اور کام بہت اچھا، انداز بڑا پیارا، اور سب ہی ساتھیوں کا کردار بہت خوبصورت تھا،۔

شادی کے سلسلے میں اس حدیث کو ہمہ وقت پیش نظر رکھا جاے: [إن من أعظم النکاح برکةً أیسرہ موٴنة] یعنی سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو۔  آہا اس بابرکت شادی میں بالکل اس حدیث پر عمل نظر آتا ہے، اور عمل ہو بھی کیوں نہ کہ آخر پدر دلہن حضرت مولانا حكيم محمد عثمان صاحب القاسمي نبی ﷺ کے شہر مدینہ میں مقیم ہیں ، لڑکی بھی اسی بابرکت شہر میں پرورش پاتی ہے، نور علی نور حافظہ عالمہ مقیم حال مدینہ منورہ، سبحان اللہ تعالی میرے دوست نے کیا قسمت پائی ہے، بڑا انکشاف اس وقت ہوا جب ایک دوست نے بتايا کہ حضرت مولانا حكيم محمد عثمان صاحب القاسمي کے سات بچے ہیں اور ساتوں حافظ ہیں۔ متانت، سنجیدگی، سادگی اور نرمی لئے ہوئے تینوں لڑکوں سے ملاقات کرکے بے اختیار زبان سے نکلتا ہے، ھذا من فضل ربی، لیکن ادھر بھی سادا انداز کا دلہا حبیبِ من؛ ڈاکٹر مولانا راشد الندوی تھا، موصوف بھی دینی و عصری علوم سے آراستہ ہیں۔
دارالعلوم دیوبند اور ندوہ سے فارغین علماء کرام موجود تھے، سبحان اللہ تعالی چہرے نورانی اور دل مسرور تھے۔ ناشتہ کے بعد بالا خانے پر محو گفتگو تھے، ہلکا پھلکا مزاح، دل لگی، اور علما کا طرہ امتیاز دقیق علمی مباحث جاری تھی، کہ اچانک  حضرت مولانا حكيم محمد عثمان صاحب قاسمی چہرے پر نرم مسکراہٹ لئے ہوئے کمرہ کے دروازے پر نمودار ہوئے اور سنجیدہ اونچی آواز سے اعلان کیا کہ خان صاحب کا فون آیا تھا کہ میں نے سناہے کہ آپ دھلی میں مقیم ہیں، میں بھی دھلی آیا ہوں، اور ملاقات کا طالب ہوں، مولانا قاسمی صاحب نے بتایا کہ جب میں نے ان سے کہا کہ جی ہاں! اور لڑکی کا نکاح بھی ہے، تو صوبائی وزیر نے خوشی کا اظہار کیا اور اب وہ تشریف لا رہے ہیں۔ میں نے ایک صاحب سے سوال کیاکہ خان صاحب کون ہیں  تو جواب ملا صوبائی مؤقر وزیر جناب اعظم خان صاحب تشریف لارہے ہیں، میری زبان سے فورا نکلا "ھذا من فضل ربی" ہاں یہ بھی میرے رب کا فضل ہے کہ دنیوی اعتبار سے معزز لوگوں سے بھی اللہ تبارک و تعالی اس مجلس کو زینت بخشنا چاہتا تھا۔
خیر معزز وزیر تشریف لائے اور کافی دیر تک ان نورانی چہرے والے علما کرام کو دیکھ کر تعریفی کلمات کہتے رہے، اور دلہا میاں کو بغل میں بٹھا کر عقیدت و محبت سے دیکھتے رہے۔
بعد ازاں نکاح کا اعلان ہوا، مسجد سے امام صاحب بھی تشریف لے آئے، لوازمات کے بعد حضرت مولانا حكيم محمد عثمان صاحب القاسمی نکاح کا خطبہ پڑھنے کے لئے اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور خطبہ شروع کرنا ہی چاہتے تھے کہ اچانک مجمع میں سے عقیدت و محبت سے کسی نے آواز دی کہ حضرت بیٹھ جائیے ، لیکن عطار کے پاس سے عطر، لوہار کے پاس سے دھواں، اور عالم کی صحبت سے علم حاصل ہوتا ہے، چہ جائے کہ وہ عالم قاسمی ہونے کے ساتھ ساتھ مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں مقیم ہو۔ اسکو تو یقینا سنت کا پابندہونا چاہئے لہذا نورانی چہرے، پروقار انداز اور نرم گفتار کے حامل حکیم صاحب دامت برکاتہم مقیم حال مدینہ منورہ ارشاد فرما ہوئے :

"میرے آقا ہر خطبہ کھڑے ہوکر پڑھتے تھے۔…….......... سبحان اللہ تعالی

میانہ قد، گورا رنگ، خوبصورت پر وقار چہرا، طبیعت میں متانت اور سنجیدگی، گفتار میں سلاست اور اثر انگیزی، چہرے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، اخلاق میں سیرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اثرات، یہ لڑکی کے والد، اس نکاح کے خطیب حضرت مولانا حكيم محمد عثمان صاحب القاسمی دامت برکاتہم تھے، حضرت کو اللہ تعالی نے عزت، دولت، شہرت، نیک اولاد، مخلص احباب اور علوم فنون سے خوب نوازا ہے، لیکن حضرت کی طبیعت کی انکساری اور اخلاص کا یہ عالم ہے، کہ اپنے، پرائے، ہر شخص سے خندہ پیشانی، نرم گفتاری، پر اثر الفاظ، اور خوبصورت مسکراہٹ سے ملاقات کرتے تھے، حضرت کے اخلاق، کردار، گفتار، اور اقوال کا اثر لے کر ہم اس شادی سے واپس ہوئے،

ہماری شادی بھی سادا ہوئی تھی، ہمارا خیال تھا، کہ ہم نے نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنی شادی میں سادگی کو مد نظر رکھا ہے، اور اس حدیث پر [إن من أعظم النکاح برکةً أیسرہ موٴنة] یعنی سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو۔ عمل پیرا رہے ہیں، لیکن ہمیں اس شادی میں علم ہوا کہ دیکھو سادا شادی ایسی ہوتی ہے، نہ گھر اپنا نہ در اپنا، لیکن پھر بھی سنت نبوی کو زندہ کیا اور ہاں اگر ہم اپنے میزبان نوشاد خان کا ذکر نہ کریں تو ہم احسان فراموش بھی کہلا سکتے ہیں، اللہ تعالی ان کی مخلصانہ خدمات کو قبول فرمائے۔

صبح 5 بجے کے نکلے ہوئے شب 11: 57 پر ہم اپنے مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ کے بورڈ کے سامنے گاڑی سے اترے مولانا راشد الندوی اور ان کے چچا پردھان جی کے ساتھ مولانا راشد کے دوسرے چچا مولانا سلیم صاحب قاسمی صاحب کو بھی دعوت دی جو موقع محل کو مد نظر رکھتے ہوئے معذرت کے ساتھ نامنظور کردی گئی۔
ہاں یہ بارونق، بابرکت شادی کا ہی اثر تھا کہ اتنے بڑے دن کی بھاگ دوڑ اور باوجود گرمی کے ہمیں ذرا سی بھی تھکن احساس نہ ہوا اور ہم چست، ہشاش بشاش اور خوش و کرم گھر واپس ہوئے۔

دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی

Tuesday, 28 July 2015

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی رحلت اور ہندوستان چاہت محمد قاسمی ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا انتقال پر ملال ہوچکا ہے، اس حادثۂ فاجعہ کے موقع پر پورا ہندوستان آنسو بہا رہا ہے، حتی کہ اس اندوہناک حادثہ پر وزیر اعظم نے بھی دکھ کا اظہار کیا ہے۔ لیکن سابق صدر جناب مرحوم اے پی جے عبدالکلام کی رحلت پر کیا یہ آنسو محض بناؤٹی ہیں یا پھر واقعی ہندوستان کے باسیوں کو اس کا دلی دکھ بھی ہے۔ یہ باشندگان وطن کیا واقعی مہا مہین اور مہا پرش اے پی جے عبدلکلام کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو پھر میرا سوال ہوگا کہ آخر یاد رکھنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ کیا مرحوم کے نام پر اسکول، کالج، یتیم خانے اور بہت سے اچھے اداروں کا افتتاح کیا جائے گا؟ یا چوراہے روڈس ، ائیرپورٹ، بس اڈے، اور ریلوے اسٹیشن کے نام ان کے نام پر رکھے جائیں گے؟ یا پھر میزائیل، توپ خانے وغیرہ کا نام ان کے نام پر ہوگا؟ ہم سب جانتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں، میزائیل مین کے نام سے مشھور یہ شخص بھی بھولے بسرے لوگوں میں سے ہوجائے گا، پہلے لوگوں کے کارناموں کی طرح ان کے کارہائے نمایاں بھی تاریخ کے اوراق سے مٹا دئے جائیں گے ، چند دن یا سال بعد ہی یہ سننے میں آجائے گا کہ میزائل مین کا خطاب کسی اور کو دیکر مرحوم عبدالکلام کا کارنامہ اس کے سر تھوپ دیا گیا ہے، اور آپ بہت جلد دیکھ لیں گے کہ مسٹر عبد الکلام نہ کتاب میں ہیں اور نہ نصاب میں۔ اور ہاں آخری بات یہی شخص اگر کوئی سنگھ، پال، یا پنڈت ہوتا تو اب تک اس کے لئے بہت سے اعلان کردئے جاتے، اور اس کو یاد رکھنے کے بہت سے طریقے تلاش کرلئے جاتے۔ …… …… دعا کا طالب چاہت محمد قاسمی

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی رحلت اور ہندوستان

چاہت محمد قاسمی

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا انتقال پر ملال ہوچکا ہے، اس حادثۂ فاجعہ کے موقع پر پورا ہندوستان آنسو بہا رہا ہے، حتی کہ اس اندوہناک حادثہ پر وزیر اعظم نے بھی دکھ کا اظہار کیا ہے۔
لیکن سابق صدر جناب مرحوم اے پی جے عبدالکلام کی رحلت پر کیا یہ آنسو محض بناؤٹی ہیں یا پھر واقعی ہندوستان کے باسیوں کو اس کا دلی دکھ بھی ہے۔ یہ باشندگان وطن کیا واقعی مہا مہین اور مہا پرش اے پی جے عبدلکلام کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو پھر  میرا سوال ہوگا کہ آخر یاد رکھنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ کیا مرحوم کے نام پر اسکول، کالج، یتیم خانے اور بہت سے اچھے اداروں کا افتتاح  کیا جائے گا؟ یا چوراہے روڈس ، ائیرپورٹ، بس اڈے، اور ریلوے اسٹیشن کے نام ان کے نام پر رکھے جائیں گے؟ یا پھر میزائیل، توپ خانے وغیرہ کا نام ان کے نام پر ہوگا؟

ہم سب جانتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں، میزائیل مین کے نام سے مشھور یہ شخص بھی بھولے بسرے لوگوں میں سے ہوجائے گا، پہلے لوگوں کے کارناموں کی طرح ان کے کارہائے نمایاں بھی تاریخ کے اوراق سے مٹا دئے جائیں گے ، چند دن یا سال بعد ہی یہ سننے میں آجائے گا کہ میزائل مین کا خطاب کسی اور کو دیکر مرحوم عبدالکلام کا کارنامہ اس کے سر تھوپ دیا گیا ہے، اور آپ بہت جلد دیکھ لیں گے کہ مسٹر عبد الکلام نہ کتاب میں ہیں اور نہ نصاب میں۔

اور ہاں آخری بات یہی شخص اگر کوئی سنگھ، پال، یا پنڈت ہوتا تو اب تک اس کے لئے بہت سے اعلان کردئے جاتے، اور اس کو یاد رکھنے کے بہت سے طریقے تلاش کرلئے جاتے۔ …… ……

دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی