Thursday, 10 September 2015

نماز پڑھو اس سے پہلے کہ آپ کی نماز پڑھی جائے۔

نماز پڑھو اس سے پہلے کہ آپ کی نماز پڑھی جائے۔

ازقلم: چاہت محمد قاسمی مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ

بعض دفعہ کسی کی زبان سے نکلنے والے الفاظ، سامنے والے کے دل پر سیدھے اور گہرے نقوش مرتب کرتے ہیں، پھر دن، ہفتے سال اور دھائیاں گذرنے کے بعد بھی وہ نقوش ماند اور ہلکے نہیں پڑتے، خواہ وہ بات آپ نے قبل ازیں ہزاروں، لاکھوں، اور کروڑوں مرتبہ ہی کیوں نہ سنی ہو، شاید یہ شعر بر محل ہوگا:

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

دہلی میں میرے ایک خاص دوست نے اپنا واقعہ سنایا کہ ایک رات بر بنائے علالت ان پر بہت سخت گذری، رات بھر منہ سے نکلنے والے اضطراری الفاظ "ہائے ہائے" بدن میں شدید تکلیف کا پتا دیتے تھے، بیوی بیچاری پاکباز، بہت خدمت گذار، بے بسی کی حالت میں حیران و پریشان اور شوہر کی محبت میں ہلکان، لاچار و مجبور، بار، بار، طرح طرح کے جتن کرتی، لیکن مصلحت خداوندی کہ ہر جتن بے کار ہوجاتا، اور شدید درد میں بالکل بھی آرام میسر نہ ہوتا، درد کی شدت اس قدر حاوی تھی کہ بیوی کے قرب، نرم بستر، اور ہر طرح کی سہولت کے باوجود نیند کا بالکل بھی احساس نہ ہوتا، لیکن صبح صادق کے وقت ناجانے پریشان انسان کو کیسے قرار آیا، سخت تکلیف اور شدید درد میں نیند کا خمار آیا۔
جب آنکھ کھلی تو معلوم ہوا، نور کا تڑکا سورج کی حدت و تپش میں تبدیل ہوچکا ہے، ہر چار سو پھیلی ہوئی روشنی نماز کے قضا ہونے کی خبر دے رہی تھی۔
بس یہ حال دیکھا تو ایک چیخ مار کر اٹھ بیٹھا، بیوی کو آواز لگائی: ارے اللہ کی بندی یہ کیا ہوا؟ نماز قضا ہوگئی؟ تونے مجھے بیدار کیوں نہ کیا؟
بیوی نے محبت و لجاجت کے ساتھ عرض کیا: میرے سرتاج آپ پوری رات پریشان رہے، درد سے تڑپتے رہے، آپ کو بالکل بھی آرام نہ ملا لیکن نماز سے کچھ دیر قبل آپ کی اچانک آنکھ لگ گئی، شاید نیند کا نشہ درد کے شدید احساس پر حاوی ہوگیا تھا، اس لئے میں نے سوچا: آپ ابھی سوئے ہیں، نیز بیماری کی وجہ سے آپ کے لئے اجازت بھی نکل سکتی ہے، تو میرا تصور تھا کہ آپ کو آرام کرنے دیا جائے، بعد میں نماز ادا کرلی جائے گی۔
اس پر میرے دوست نے خاص جملہ کہا، جو شاید ہم نے بھی بار بار سنا تھا، اور آپ نے بھی سنا ہوگا، لیکن وہ جملہ میرے دل پر آج تک گہرائی کے ساتھ نقش ہے:

ہائے یہ تو نے کیا کردیا؟ اگر خدا نہ خواستہ مجھے اس حال میں موت آجاتی تو ذرا سوچ میں اللہ کے حضور بے نمازی کی حالت میں حاضر ہوتا۔ اس وقت میں اللہ کو کیا منہ دکھاتا، تونے میرے ساتھ یہ کوئی بھلائی نہیں کی، خدارا آئندہ ایسا مت کرنا، بلکہ بیماری کی حالت میں تو نماز مزید خشوع اور خضوع کے ساتھ ادا کرنی چاہئے، کہ مبادا یہ نماز آخری نماز ہو۔

بھائیو۔!! یہی وہ الفاظ تھے جنہوں نے مجھے جھنجھوڑ ڈالا اور ہمیشہ ہمیش کے لئے دل پر گویا جم ہی گئے۔

یہ الفاظ آپ حضرات کے لئے بھی مشعل راہ ثابت ہوسکتے ہیں، نیز غور کر نے کا مقام ہے، جو لوگ نماز میں سستی کرتے ہیں، یا پھر ذرا سی بیماری کی وجہ سے نماز چھوڑ دیتے ہیں، ذرا وہ لوگ بلکہ ہم سب انسان اپنا محاسبہ کریں کہ اللہ کے کیسے کیسے بندے ہیں، اور اللہ کے یہ بندے ہر حال میں اللہ کو یاد رکھتے ہیں، بس آپ سبھی حضرات سے التجا ہے کہ کبھی نماز نہ چھوڑیں، چونکہ نماز دین کا ایک اہم ستون ہے، انسانوں کے چہرے کا نور، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک، اور کفر و اسلام کے درمیان آڑ ہے، نیز اس کے محض قضا کرنے پر سخت وعیدوں کا ذکر ہے، چھوڑنا تو گنتی و شمار ہی میں نہیں۔ چھوڑنے سے اللہ ہمیشہ حفاظت فرمائے۔ آپ کو یہ بھی فیصلہ کرنا ہے، کہ موت جو کبھی بھی، کہیں بھی، کسی بھی حالت میں دبوچ سکتی ہے، اس کے بعد ہمیں رب العزت کے دربار میں کس حال میں حاضر ہونا چاہئے، نمازی یا بے نمازی؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
میرے لئے بھی دعا کریں کہ صحیح طریقے سے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی نماز کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین

دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی

Wednesday, 2 September 2015

الدکتور مولانا راشد الندوی کی بابرکت شادی

ایک بابرکت شادی

شادی میں سادگی ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

ازقلم: چاہت محمد قاسمی مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ سہارنپور

میں نے دروازہ کھولا اور افراد مجلس پر نظر ڈالے بغیر آداب محفل کا خیال کرتے ہوئے دروازے کے قریب پڑے ہوئے صوفہ پر فورا بیٹھ گیا، میرا گمان تھا کہ اگر میں اپنی شناسا شخصیت کو تلاش کروں گا تو شاید ممکن ہے، میرا تجسس دیکھ کر لوگوں کا ذہن منتشر ہو، اور بعض لوگ اس کو نا گوار بھی محسوس کریں، جو آداب محفل کے خلاف تھا، لیکن بیٹھنے کے بعد ابھی میں نے مجلس کا جائزہ نہیں لیا تھا کہ اچانک پوری محفل استقبال کے لئے کھڑی ہوچکی تھی، اور تقریبا سب ہی افراد باشرع مع اسلامی وضع قطع چہرے پر بشاشت اور خوشی کی جھلکیوں سے پر خوبصورت مسکراہٹ لئے ہوئے میری طرف متوجہ اور مصافحہ کرنے کے لئے تیار کھڑے تھے، خیر مجھے پھر دوبارہ کھڑے ہوکر سب سے باری باری مصافحہ کرنا پڑا؛ علیک سلیک اور مختصر تعارف کے بعد ہم سب دوبارہ صوفوں پر بیٹھ گئے، میں نے ایک اچٹتی ہوئی نگاہ سلیقے سے سجائے گئے کمرہ پر ڈالی اور صوفوں پر بیٹھے ہوئے افراد کا جائزہ لیا، تو معلوم ہوا کہ ماشاء اللہ تعالی سبھی افراد سادگی کے باوجود پر وقار اور با عزت علماء کرام تھے، اور بعد میں معلوم ہوا کہ سبھی علماء کرام ماشاء اللہ تعالی نوجوان ہونے کے ساتھ اپنے علوم میں ماہر، باہنر اور خدمت دین میں لگے ہوئے تھے، ان میں سے ہر ایک دوسرے کو فوقیت دینے والا اور دوسرے کی عزت کرنے والا محسوس ہوتا تھا، یہاں سبھی حضرات ایک ہی صف میں بیٹھے ہوئے بڑے نورانی نورانی لگ رہے تھے، انہیں کے درمیان ایک ایسے نوجوان عالم دین بھی براجمان تھے، جن کے لئے اج کا دن بڑا ہی اہم، یاد گار اور خوبصورت دن تھا، ایک ایسا دن جس میں لوگ سجتے ہیں، سنورتے ہیں، کہیں گالوں پر جدید انداز کی کریم تو کہیں ماتھے پر سہرا سجاتے ہیں، مہنگے جوتے، مہنگے کپڑے اور مہنگے ہار کے ساتھ خود دلہا بھی مہنگا ہوجاتا ہے، لیکن سبحان اللہ تعالی یہ دلہا تو نبی کا جانشین اور نبی کا وارث دلہا تھا، نہ مہنگے کپڑے نہ مہنگا لباس، نہ چہرے پر مہنگی کریم کے گھسے، نہ مہنگا ہار اور نہ سہرا؛ یہ تو سنت نبوی کا عاشق، سادہ مزاج، خوبصورت انداز، دلربا مسکان، اور پروقار مزاج کا حامل میرا پرانا دوست دلہا تھا، مزید جانئے کہ اس شادی میں سادگی کا کیا انداز تھا، یہ دلہا تو ہفتوں سے حیدرآباد میں مقیم تھا، شادی طے ہوئی اچانک فون پہنچا: جہاں ہو، جیسے ہو، جس حال میں ہو فورا دھلی چلے آؤ!!! دلہا رات میں دھلی پہنچا، ایک مدرسہ میں ٹہرا، آہ سبحان اللہ تعالی ایک عالم کے لئے، دین کے شیدائی کے لئے، علم کے پروانے کے لئے مدرسہ سے زیادہ کوئی جائے سکوں ہوسکتی ہے؟؟
صبح کی کرن نئی نوید لے کر آئی، اور دور سہارنپور سے ایک بارات آئی، نہیں، نہیں، اس کو بارات کہنا ان پاکیزہ نفوس کی جماعت کی توہین ہوگی، کیوں کہ بارات تو وہ ہوتی ہے، جو نئے کپڑوں میں ملبوس سنت کا جنازہ نکال کرآتی ہے، بدعت و خرافات کا ڈنکے کے چوٹ پر ارتکاب کرکے آتی ہے، جو رسوم و رواج سے سج سنور کر آتی ہے، جس میں ایک مہنگا، سجا، سنورا، شو پیس، اور ناز و نخرے کا حامل دلہا بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں تو سادگی ہی سادگی تھی، اور ہلدی لگے نہ پھٹکری رنگ آئے چوکھا چوکھا، بالکل یہی حالت تھی طرفین کے اخرجات مختصر اور کام بہت اچھا، انداز بڑا پیارا، اور سب ہی ساتھیوں کا کردار بہت خوبصورت تھا،۔

شادی کے سلسلے میں اس حدیث کو ہمہ وقت پیش نظر رکھا جاے: [إن من أعظم النکاح برکةً أیسرہ موٴنة] یعنی سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو۔  آہا اس بابرکت شادی میں بالکل اس حدیث پر عمل نظر آتا ہے، اور عمل ہو بھی کیوں نہ کہ آخر پدر دلہن حضرت مولانا حكيم محمد عثمان صاحب القاسمي نبی ﷺ کے شہر مدینہ میں مقیم ہیں ، لڑکی بھی اسی بابرکت شہر میں پرورش پاتی ہے، نور علی نور حافظہ عالمہ مقیم حال مدینہ منورہ، سبحان اللہ تعالی میرے دوست نے کیا قسمت پائی ہے، بڑا انکشاف اس وقت ہوا جب ایک دوست نے بتايا کہ حضرت مولانا حكيم محمد عثمان صاحب القاسمي کے سات بچے ہیں اور ساتوں حافظ ہیں۔ متانت، سنجیدگی، سادگی اور نرمی لئے ہوئے تینوں لڑکوں سے ملاقات کرکے بے اختیار زبان سے نکلتا ہے، ھذا من فضل ربی، لیکن ادھر بھی سادا انداز کا دلہا حبیبِ من؛ ڈاکٹر مولانا راشد الندوی تھا، موصوف بھی دینی و عصری علوم سے آراستہ ہیں۔
دارالعلوم دیوبند اور ندوہ سے فارغین علماء کرام موجود تھے، سبحان اللہ تعالی چہرے نورانی اور دل مسرور تھے۔ ناشتہ کے بعد بالا خانے پر محو گفتگو تھے، ہلکا پھلکا مزاح، دل لگی، اور علما کا طرہ امتیاز دقیق علمی مباحث جاری تھی، کہ اچانک  حضرت مولانا حكيم محمد عثمان صاحب قاسمی چہرے پر نرم مسکراہٹ لئے ہوئے کمرہ کے دروازے پر نمودار ہوئے اور سنجیدہ اونچی آواز سے اعلان کیا کہ خان صاحب کا فون آیا تھا کہ میں نے سناہے کہ آپ دھلی میں مقیم ہیں، میں بھی دھلی آیا ہوں، اور ملاقات کا طالب ہوں، مولانا قاسمی صاحب نے بتایا کہ جب میں نے ان سے کہا کہ جی ہاں! اور لڑکی کا نکاح بھی ہے، تو صوبائی وزیر نے خوشی کا اظہار کیا اور اب وہ تشریف لا رہے ہیں۔ میں نے ایک صاحب سے سوال کیاکہ خان صاحب کون ہیں  تو جواب ملا صوبائی مؤقر وزیر جناب اعظم خان صاحب تشریف لارہے ہیں، میری زبان سے فورا نکلا "ھذا من فضل ربی" ہاں یہ بھی میرے رب کا فضل ہے کہ دنیوی اعتبار سے معزز لوگوں سے بھی اللہ تبارک و تعالی اس مجلس کو زینت بخشنا چاہتا تھا۔
خیر معزز وزیر تشریف لائے اور کافی دیر تک ان نورانی چہرے والے علما کرام کو دیکھ کر تعریفی کلمات کہتے رہے، اور دلہا میاں کو بغل میں بٹھا کر عقیدت و محبت سے دیکھتے رہے۔
بعد ازاں نکاح کا اعلان ہوا، مسجد سے امام صاحب بھی تشریف لے آئے، لوازمات کے بعد حضرت مولانا حكيم محمد عثمان صاحب القاسمی نکاح کا خطبہ پڑھنے کے لئے اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور خطبہ شروع کرنا ہی چاہتے تھے کہ اچانک مجمع میں سے عقیدت و محبت سے کسی نے آواز دی کہ حضرت بیٹھ جائیے ، لیکن عطار کے پاس سے عطر، لوہار کے پاس سے دھواں، اور عالم کی صحبت سے علم حاصل ہوتا ہے، چہ جائے کہ وہ عالم قاسمی ہونے کے ساتھ ساتھ مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں مقیم ہو۔ اسکو تو یقینا سنت کا پابندہونا چاہئے لہذا نورانی چہرے، پروقار انداز اور نرم گفتار کے حامل حکیم صاحب دامت برکاتہم مقیم حال مدینہ منورہ ارشاد فرما ہوئے :

"میرے آقا ہر خطبہ کھڑے ہوکر پڑھتے تھے۔…….......... سبحان اللہ تعالی

میانہ قد، گورا رنگ، خوبصورت پر وقار چہرا، طبیعت میں متانت اور سنجیدگی، گفتار میں سلاست اور اثر انگیزی، چہرے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، اخلاق میں سیرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اثرات، یہ لڑکی کے والد، اس نکاح کے خطیب حضرت مولانا حكيم محمد عثمان صاحب القاسمی دامت برکاتہم تھے، حضرت کو اللہ تعالی نے عزت، دولت، شہرت، نیک اولاد، مخلص احباب اور علوم فنون سے خوب نوازا ہے، لیکن حضرت کی طبیعت کی انکساری اور اخلاص کا یہ عالم ہے، کہ اپنے، پرائے، ہر شخص سے خندہ پیشانی، نرم گفتاری، پر اثر الفاظ، اور خوبصورت مسکراہٹ سے ملاقات کرتے تھے، حضرت کے اخلاق، کردار، گفتار، اور اقوال کا اثر لے کر ہم اس شادی سے واپس ہوئے،

ہماری شادی بھی سادا ہوئی تھی، ہمارا خیال تھا، کہ ہم نے نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنی شادی میں سادگی کو مد نظر رکھا ہے، اور اس حدیث پر [إن من أعظم النکاح برکةً أیسرہ موٴنة] یعنی سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو۔ عمل پیرا رہے ہیں، لیکن ہمیں اس شادی میں علم ہوا کہ دیکھو سادا شادی ایسی ہوتی ہے، نہ گھر اپنا نہ در اپنا، لیکن پھر بھی سنت نبوی کو زندہ کیا اور ہاں اگر ہم اپنے میزبان نوشاد خان کا ذکر نہ کریں تو ہم احسان فراموش بھی کہلا سکتے ہیں، اللہ تعالی ان کی مخلصانہ خدمات کو قبول فرمائے۔

صبح 5 بجے کے نکلے ہوئے شب 11: 57 پر ہم اپنے مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ کے بورڈ کے سامنے گاڑی سے اترے مولانا راشد الندوی اور ان کے چچا پردھان جی کے ساتھ مولانا راشد کے دوسرے چچا مولانا سلیم صاحب قاسمی صاحب کو بھی دعوت دی جو موقع محل کو مد نظر رکھتے ہوئے معذرت کے ساتھ نامنظور کردی گئی۔
ہاں یہ بارونق، بابرکت شادی کا ہی اثر تھا کہ اتنے بڑے دن کی بھاگ دوڑ اور باوجود گرمی کے ہمیں ذرا سی بھی تھکن احساس نہ ہوا اور ہم چست، ہشاش بشاش اور خوش و کرم گھر واپس ہوئے۔

دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی

Tuesday, 28 July 2015

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی رحلت اور ہندوستان چاہت محمد قاسمی ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا انتقال پر ملال ہوچکا ہے، اس حادثۂ فاجعہ کے موقع پر پورا ہندوستان آنسو بہا رہا ہے، حتی کہ اس اندوہناک حادثہ پر وزیر اعظم نے بھی دکھ کا اظہار کیا ہے۔ لیکن سابق صدر جناب مرحوم اے پی جے عبدالکلام کی رحلت پر کیا یہ آنسو محض بناؤٹی ہیں یا پھر واقعی ہندوستان کے باسیوں کو اس کا دلی دکھ بھی ہے۔ یہ باشندگان وطن کیا واقعی مہا مہین اور مہا پرش اے پی جے عبدلکلام کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو پھر میرا سوال ہوگا کہ آخر یاد رکھنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ کیا مرحوم کے نام پر اسکول، کالج، یتیم خانے اور بہت سے اچھے اداروں کا افتتاح کیا جائے گا؟ یا چوراہے روڈس ، ائیرپورٹ، بس اڈے، اور ریلوے اسٹیشن کے نام ان کے نام پر رکھے جائیں گے؟ یا پھر میزائیل، توپ خانے وغیرہ کا نام ان کے نام پر ہوگا؟ ہم سب جانتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں، میزائیل مین کے نام سے مشھور یہ شخص بھی بھولے بسرے لوگوں میں سے ہوجائے گا، پہلے لوگوں کے کارناموں کی طرح ان کے کارہائے نمایاں بھی تاریخ کے اوراق سے مٹا دئے جائیں گے ، چند دن یا سال بعد ہی یہ سننے میں آجائے گا کہ میزائل مین کا خطاب کسی اور کو دیکر مرحوم عبدالکلام کا کارنامہ اس کے سر تھوپ دیا گیا ہے، اور آپ بہت جلد دیکھ لیں گے کہ مسٹر عبد الکلام نہ کتاب میں ہیں اور نہ نصاب میں۔ اور ہاں آخری بات یہی شخص اگر کوئی سنگھ، پال، یا پنڈت ہوتا تو اب تک اس کے لئے بہت سے اعلان کردئے جاتے، اور اس کو یاد رکھنے کے بہت سے طریقے تلاش کرلئے جاتے۔ …… …… دعا کا طالب چاہت محمد قاسمی

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی رحلت اور ہندوستان

چاہت محمد قاسمی

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا انتقال پر ملال ہوچکا ہے، اس حادثۂ فاجعہ کے موقع پر پورا ہندوستان آنسو بہا رہا ہے، حتی کہ اس اندوہناک حادثہ پر وزیر اعظم نے بھی دکھ کا اظہار کیا ہے۔
لیکن سابق صدر جناب مرحوم اے پی جے عبدالکلام کی رحلت پر کیا یہ آنسو محض بناؤٹی ہیں یا پھر واقعی ہندوستان کے باسیوں کو اس کا دلی دکھ بھی ہے۔ یہ باشندگان وطن کیا واقعی مہا مہین اور مہا پرش اے پی جے عبدلکلام کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو پھر  میرا سوال ہوگا کہ آخر یاد رکھنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ کیا مرحوم کے نام پر اسکول، کالج، یتیم خانے اور بہت سے اچھے اداروں کا افتتاح  کیا جائے گا؟ یا چوراہے روڈس ، ائیرپورٹ، بس اڈے، اور ریلوے اسٹیشن کے نام ان کے نام پر رکھے جائیں گے؟ یا پھر میزائیل، توپ خانے وغیرہ کا نام ان کے نام پر ہوگا؟

ہم سب جانتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں، میزائیل مین کے نام سے مشھور یہ شخص بھی بھولے بسرے لوگوں میں سے ہوجائے گا، پہلے لوگوں کے کارناموں کی طرح ان کے کارہائے نمایاں بھی تاریخ کے اوراق سے مٹا دئے جائیں گے ، چند دن یا سال بعد ہی یہ سننے میں آجائے گا کہ میزائل مین کا خطاب کسی اور کو دیکر مرحوم عبدالکلام کا کارنامہ اس کے سر تھوپ دیا گیا ہے، اور آپ بہت جلد دیکھ لیں گے کہ مسٹر عبد الکلام نہ کتاب میں ہیں اور نہ نصاب میں۔

اور ہاں آخری بات یہی شخص اگر کوئی سنگھ، پال، یا پنڈت ہوتا تو اب تک اس کے لئے بہت سے اعلان کردئے جاتے، اور اس کو یاد رکھنے کے بہت سے طریقے تلاش کرلئے جاتے۔ …… ……

دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی

Sunday, 14 June 2015

التوطئة

بسم الله الرحمن الرحيم
التوطئة
الحمد لله وكفى والصلاة والسلام على سيدنا المصطفى وعلى آله أهل الصدق والوفا.
أما بعد.
فإن الهند من البلاد التي أدركتها  أشعة شمس الإسلام منذ طلوعها في جزيرة العرب، وكان ولايزال الإسلام في الهند راسخ البنيان موطد الأركان، لأنّ مسلمي الهند استقبلوا الإسلام بإيمان مازج شغاف قلوبهم وقارن أعماق نفوسهم، فنجد مظاهر الشريعة وملامحها بادية في طول الهند وعرضها، تركت في ملف تاريخها آثار علمية خالدة تزدهي بها الحضارة الإسلامية شرقا وغربا وصبت في ربوعها جهود مضنية ترقم بمداد النور على عيون الحور.
فهل من أحد نبا سمعه عن أمثال صفي الدين الهندي متكلم الهند وأصوليها وعلي بن حسام الدين المتقي صاحب كنز العمال محدث الهند ولغويها والإمام شاه ولي الله بن عبد الرحمن الدهلوي، والإمام شمس الدين السيالكوتي الهندي والإمام الفقيه الشهير زين الدين أحمد بن محمد الغزالي والشيخ أبو الحسن علي الحسني الندوي ................................وغيرهم من جحافل الهند وفطاحلها.
وكان وما يزال المسلمون في الهند غيورين على ملة الإسلام ملتزمين بمظاهرها معتنين بملامحها يعطون للإسلام نفائسهم وغواليهم ويذودون عنها بأنفسهم.
نشأة فكرة  المدرسة(فيض العلوم الياسينية)
تجري الدراسات الإسلامية والعربية في الهند اليوم على طريقتين الأولى بطريق المدارس والمعاهد التي تجري بالمساعدات الخيرية والتبرعات الأهلية ، وكذلك بطريق الحلقات الدراسية التي تجري في المساجد والتكايا الإسلامية حسب النظام القديم، والثانية بطريق الكليات العربية التي تجري تحت إشراف الجامعات الحكومية ومساعداتها المالية.
والطريق الأول الذي هو النظام الأكاديمي في الجامعات والكليات الحكومية وهو كما هو في أي مكان آخر لا يشبع ولا يسمن من جوع والمقرر  فيها يكون قدرا يسيرا من القرآن لا غير،  ولكنّ المنهج المتبع في الزوايا يعتني بجميع العلوم النقلية كالتفسير والحديث والفقه والعقلية كالمنطق والكلام واللغوية كالنحو والصرف والبلاغة، وهذه الأربطة خرجت أعيانا في شتى الفنونى العلمية انتفع بهم المجتمع الهندي المسلم، ولهم مؤلفات تصدع بعلو كعبهم في العلوم الإسلامية برمّتها.
     ولكنّ الشيء الذي ينقص هذا المنهج أنه خال عن التطبيق العلمي حيث نجد في الهند حفاظا لألفية ابن مالك ولكنهم  لا يستطيعون  أن يكوّنوا  جملة عربية صحيحة على حين أنهم يقدرون على تصحيح الأخطاء، وكذلك لا ينطلق لسانهم بلغة القرآن كما ينبغي، والسبب في ذلك كلّه أنّ لغة التعليم في الزوايا  والجامعات هي اللغة المحليّة، وحلا لهذه المشكلة الراهنة 
أردنا أن نضع معهدا علميا باسم مدرسه فيض العلوم الياسينية) يعلم فيه العلوم الشرعية عبر اللغة العربية وهمنا الأكبر أن نجعل لغة التعليم هي اللغة العربية وتحقيقا لهذا الهدف النبيل نأتي بالمدرسين من الدول العربية ونكوّن جوّا عربيا داخل دولة عجمية إن شاء الله.

أهداف المدرسة
 نشر العلوم الشرعية عبر اللغة العربيّة.
 تكوين علماء متخصصين في شتى العلوم العقلية والنقلية.
 تكوين الدعاة الماهرين في شتى اللغات وإرسالهم إلى شتى بقاع العالم.
 كفالة الطلاب المساكين.
 تحفيظ القرآن الكريم.
 الاعتناء بالمساعدات الخيرية.
 المشاركة البناءة مع الجهات الاسلامية الأخرى المعتنية بالنهضة الإسلامية في شبه القارة الهندية
 تزويد المعهد بالوسائل التعليمية الحديثة المبنية على التقنيات المعلوماتية بهدف التوسع فى الخدمات التعليمية الاسلامية وتوفير مناخ لها أفضل.



رسالة المدرسة
وتتمثل رؤية المدرسة فى أن يصير إن شاء الله فى نهاية المطاف صرحا للتعليم الإسلامى العالى فى الهند مع الحصول على التراخيص المطلوبة من الجامعات الاسلامية فى العالم الإسلامى فى المراحل الأولية ثم من الجامعات الهندية فى المراحل اللاحقة.
أما رسالة المدرسة  فتتمثل فى إخراج علماء ورجال دين حاملين لرسالة القرآن-مصدر الاسلام الأول-وتعاليمه شهداء على كونه ليس محض أفكار ومبادئ لاصلة لها بالواقع بل هو منهج حياة شامل يطبق فى كل مناحى الحياة ويصلح لجميع الحالات مسهمين بالتالى فى التعايش السلمى بين أبناء البشر وأجناسه كافة......

Sunday, 31 May 2015

دوسروں کو پانی ضرور پلائیے!

دوسروں کو پانی ضرور پلائیے!

تحریری درخواست: چاہت محمد قاسمی
مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ سہارنپور

آج کل تیز دھوپ کی تپش، اور گرمی کی شدت سے برا حال ہے، گرم ہوا کے تھپیڑے رخوں کو جھلسا دے رہے ہیں، انسان کو اپنے بدن پر کپڑا بھی گرم محسوس ہو رہا ہے، اگر ہر چند منٹ کے بعد ہونٹ تر کرنے کے لئے پانی نہ ملے تو ہر جاندار کی زبان باہر آنے لگتی ہے، اور اس کو اپنا دم نکلتا محسوس ہوتا ہے۔
لیکن ان مشکلات کے باوجود بھی انسان بربنائے ضرورت سفر کرنے پر مجبور ہے، حالانکہ اس جان لیوا شدید گرمی میں سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے، لیکن کیا کریں ضرورت تو ضرورت ہے سفر کرنا بھی پڑتا ہے، لیکن ہاں، اللہ بہترین اجر عطا فرمائے ان لوگوں کو جو جگہ جگہ روڑ پر، بازار میں، چوراہوں پر اور دیگر بہت سی جگہوں پر اللہ کے بندوں کو پانی پلاتے اور مشروبات تقسیم کرتے نظر آتے ہیں، لیکن افسوس بلکہ بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ ان پانی پلانے والوں میں کہیں ہندو اور کہیں سکھ تو نظر آتے ہیں لیکن مسلمان مجھے اب تک نظر نہیں آئے ، (اللہ کرے ایسا میرے ساتھ ہی ہوا ہو) افسوس اسی بات کا ہے کہ وہ مسلمان جس کے نبی نے ایک واقعہ کے ذیل میں فرمایا تھا کہ اللہ نے ایک شخص کی پیاسے کتے کو پانی پلانے پر مغفرت فرمادی تھی۔ پھر جب صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ہمیں چوپاؤں پر بھی اجر ملے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر جاندار میں ثواب ہے۔

یہ امر قابل افسوس ہے کہ مسلمانوں کے درمیان سے ایسی نیکی تو بالکل ہی مفقود ہوکے رہ گئی ہے، جو رفاہ عام کے لئے ہو، جو اجتماعی طور پر بلا تفریق مذہب و ملت سب کے لئے منافع بخش ہو، ایسی نیکی اور ایسا معاملہ جس کی وجہ سے غیر ہم سے متاثر ہوں اور ان کے دل میں مسلمانوں اور مذہب اسلام کی محبت موجزن ہو ان سب سے ہم دور ہوگئے ہیں۔ پھر بھی ہمیں گلہ ہے کہ ان غیر مسلموں میں شدت پیدا ہوتی جارہی ہے۔

میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ خود بھی اس پر عمل کریں اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اس کی دعوت دیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ پانی کا انتطام کریں اور بلا تفریق مذہب و ملت سب کو پانی پلائیں، مشروبات تقسیم کریں۔ میں مزید شوق کے لئے چند احادیث کا تذکرہ کرکے بات پوری کرتا ہوں، امید ہے، ہمارے اندر اس کا جذبہ ضرور پیدا ہوگا۔۔۔۔۔

حضرت سعد بن عبادہ رضي الله عنه  ایک مرتبہ حضور صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کون سا صدقہ آپ صلى الله عليه وسلم کو زیادہ پسند ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:

لوگوں کے لیے پانی صدقہ کرنا زیادہ بہتر ہے

(ابوداوٴد حدیث نمبر:1679، باب فی فضل سقی الماء)

ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت سعد رضي الله عنه کی والدہ کا انتقال ہوا۔ انہوں نے آپ صلى الله عليه وسلم سے بہتر اور افضل صدقہ کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:

پانی افضل صدقہ ہے

چنانچہ انہوں نے ایک کنواں کھود وایا اور اس کے پانی کو عام مسلمانوں کے لیے وقف کرکے فرمایا کہ اس کا ثواب ہماری والدہ کو پہنچے

( ابوداوٴد حدیث نمبر:1681)

حضرت ابوسعید خدری رضي الله عنه آپ صلى الله عليه وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ جو شخص پیاسے مسلمان کو پانی پلائے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کی خالص شراب جس پر مہر لگی ہوگی اس سے سیراب فرما ئے گا۔

(ابوداوٴدحدیث نمبر: 1682،باب فضل سقی الماء)

ظاہر ہے کہ اس خصوصی شراب سے وہی شخص سیراب ہوگا جو جنت میں جائے گا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کو پانی پلانے والا بھی جنت میں جائے گا۔


دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی