Sunday, 15 February 2015

عملیات: ھمزاد، جن، چڑیل اور پری کی وضاحت

عملیات:

ھمزاد، جن، چڑیل اور پری کی وضاحت

اصل میں عملیات کی رو سے دیکھیں تو آسیب کی کئی قسمیں ہوتی ہیں جن میں سرِفہرست ہمزاد ہے۔۔۔۔ ہمزاد کی تعریف یہ ہیکہ یہ ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے جب انسان مرتا ہے، اور اس کا کفن دفن شریعت کے مطابق ہوجاتا ہے، تو ہمزاد بھی اس کے ساتھ دفن ہوجاتا ہے۔ اور اگر کوی حادثات کی موت مرے، یا جس کا کفن دفن نہ ہو، تو اس کا ہمزاد باقی رہ جاتا ہے، جو پھر لوگوں کو پریشان کرتا ہے۔ نیز کبھی کبھی آگے پیش آنے والے حالات بھی بتادیتا ہے۔۔۔۔۔۔

اسی طرح ایک قسم جن کی ہوتی ہے، جو اکثر شریر ہی ہوتے ہیں ان میں سمجھدار کم ہوتے ہیں ضدی اور اڑیل مزاج کے زیادہ ہوتے ہیں، یہ بھی  کئی مرتبہ کیا بلکہ آج کل تو عام بات ہر کسی کو پریشان کرتے ہیں۔۔۔ اور یہ ہم بھی بخوبی جانتے ہیں کہ انکا آنا جانا آسمان تک بھی ہے اس لیئے اگر یہ کچھ باتیں لوگوں کے ذہن کے خلاف بتائیں تو کوئی تعجب کی بات نہی۔۔۔۔ یہ بھی ایک قسم ہے۔۔۔۔۔۔ نیز انہی میں سے جنات بھی ہیں، گویا کہ اچھی اور بری ایک ہی قوم کے دو نام ہیں جن اور جنات۔۔ جناتوں میں اکثر بلکہ سبھی اچھے ہوتے ہیں، یہ شریعت پر عمل کرنے والے اور اہلِ تقوی بھی ہوتے ہیں، یہ کسی کو پریشان کرنے میں پہل بہت کم کرتے ہیں بلکہ کرتے ہی نہی ہیں۔ ہاں جب کوئی ان کو پریشان کردے یا ستادے تو پھر اس کی اچھی ہی خبر لیتے ہیں لیکن اس سب کے بعد بھی جب ان کو حاضر کرکے معافی تلافی کرادی جاے تو یہ خوشی خوشی مان جاتے ہیں اور معاف کردیتے ہیں‐

بعینہہ ان کی مادائیں ہوتی ہیں، جن کو ہم چڑیل اور پری وغیرہ کے نام سے جانتے ہیں۔۔۔ ان میں بھی اکثر وہی بات پائی جاتی ہے جو ان کے نروں میں پائ جاتی ہے۔ یعنی اچھے کی اچھی اور برے کی بری

اور ان سب کے علاوہ احقر کا اپنا تجربہ جو اکثر صحیح ثابت ہواہے وہ ہے اثر۔ ہم اکثر دیکھتے اور سنتے ہیں کہ فلاں عورت کو کسی اثر کی وجہ سے اولاد سے محرومی ہے، فلاں عورت یا آدمی عجیب عجیب طرح کی حرکتیں کرتا  ہے، حالاں کہ جب ان کو کسی عامل کے پاس لے جاو تو  کچھ بھی حاضر نہی ہوتا۔ اور اس مرض میں اکثر عورتوں کی ماہواری بگڑتی ہے اور کمر ہاتھ پیر حیض کے وقت بہت شدت سے درد کرتے ہیں نیز کوئی عورت حمل سے ہو تو اس کو گندے سندے خواب آنا، خون اور مرے ہوے انسان نظر آنا۔۔۔۔۔ اور بھی اسی طرح کی بہت سی باتیں ہیں جو اکثر عورتوں کے ساتھ اور کبھی کبھی مردوں کے ساتھ بھی پیش آتیں ہیں اور ہم ڈاکٹروں کا خوب بھلا کرتے ہیں یہ سمجھ کر کہ کمزوری ہے کمزوری ہے۔

حالاں کہ ساری باتیں اللہ کی طرف سے ہیں جن کو ہم اپنے اعمال کا بدل بھی کہ سکتے ہیں اور قضا وقدر سے بڑھکر تو کچھ بھی نہی ہے جو اللہ نے مقدر میں لکھا ہے وہ تو لازمی پیش آنا ہی ہے۔۔۔
تو ایک اثر ہے اپنی پہچان الگ ہی رکھتا ہے۔۔۔ اور یہ پیش آتا ہے اکثر بے احتیاطی سے جس میں عورتیں پیش پیش رہتی ہیں۔۔۔ پیشاب پاخانہ میں بے احتیاطی، چلنے پھرنے میں بے احتیاطی، وقت کا خیال کئے بغیر سج سنور کر گھر سے نکلنے کی بے احتیاطی، زیادہ خوشبو دار اشیاء لگا کر کہیں جانے میں بے احتیاطی ۔۔۔ حالاںکہ یہ سارے کام احتیاط سے بھی کیئے جا سکتے ہیں اور الحمدللہ ہمارا طبقہ اس میں کافی حد تک بہت مضبوط ہے

تو غرض بے احتیاطی برتنے میں کہیں ایسی جگہ پیر رکھا گیا جہاں پر گندگی۔۔۔۔۔۔۔ حیض و نفاس کے کپڑے پڑے ہوں، یا اور اسی قسم کی کوئی دوسری گندگی ہو، یا غلط جگہ پر غلط وقت میں غلط طریقہ سے پیشاب پاخانہ کرنے لگے، یا ایسی جگہ سے خوشبو وغیرہ لگا کر گزرے جہاں ان کا مقام ہو اور یہ رہتے ہوں، تو ایسے حالات کی وجہ سے کسی شے کے اثر میں انسان آجاتا ہے جس میں وہ سب پریشانیاں آتیں ہیں جو مذکور ہوئیں‐

اور میرے اپنے ذہن کے اعتبار سے اثر جو ہوتا ہے وہ اصل نہی بلکہ اصل کا اثر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم چائے پیتے ہیں اور میٹھی پیتے ہیں  ہماری میٹھی چائے پینے کے بعد اسی برتن میں ہم نے ایک صاحب کو بغیر شکر کی چاے بنادی تو وہ چائے پیتے پیتے کہے کہ بھائ چائے میں شکر کا اثر ہے۔ حالانکہ اس میں شکر اپنی ذات کے ساتھ موجود نہی ہے پر اس کا اثر ہے۔۔۔ ایسے یہ اثر بھی ہوتا ہے جو جسم کے ساتھ نہی ہوتا، پر اس کا اثر ضرور ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔۔

از قلم:
ظہیر الاسلام منیری

Wednesday, 11 February 2015

ویلنٹائن ڈے قسط ❸

ویلنٹائن ڈے

قسط ❸
۔
۔
ازقلم: چاہت محمد قاسمی
مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ

۔
۔

ایک طوفان بدتمیزی لڑکے کی زبان سے جاری تھا،غصہ سے بھرا یہ خوبصورت نوخیز لڑکا گویا اس عاشق کا خون پینے کے لئے پوری طرح تیار تھا، لیکن جب اس نے کچھ آنکھوں کو اپنی طرف اٹھتے ہوئے دیکھا، اور اس مدبر، مفکر، اور معاملہ فہم شخص کو گھورتے ہوئے استفسارانہ انداز میں منتظر پایا تو وہ طوعا و کرہا اس طرح گویا ہوا
محتر بزرگوار میں ادھر سے جارہا تھا
کہ اچانک میں نے دیکھا کہ یہ بدتمیز لڑکا میری پاکباز بہن کو سرخ گلاب دے رہا ہے، اب آپ ہی بتائے ہم عزت دار لوگ ہیں، خودداری ہماری رگ رگ میں پیوست ہے۔ اب ہم یہ بے عزتی کیسے برداشت کر سکتے تھے، اس نے ہاتھ میں موجود اپنے سرخ گلاب کو چھپاتے ہوئے کہا۔
آپ کہاں جارہے تھے؟ مدبر شخص نے ایک چبھتی ہوئی نظر اس کے سجے سنورے وجود اور ہاتھ میں موجود سرخ گلاب پر ڈالتے ہوئے معلوم کیا،
وہ…… میں………  میں…… اس نے ہکلاتے ہوئے بولنے کی ناکام کوشش کی۔ ہاتھ میں موجود گلاب کو نیچے زمین پر گرجانے دیا۔ شرمندگی سے سجے ہوئے چہرے کو موقع پر پکڑے جانے والے چور کی طرح جھکاکر کن انکھیوں سے ادھر ادھر ایسے دیکھا گویا بھاگنے کی تیاری کر رہا ہو۔
اوہ…… مدبر شخص نے معاملہ فہم انسان کی طرح گردن ہلائی اور سوال کیا:

جس لڑکی کو آپ پھول دینے جارہے تھے، کیا وہ کسی کی بہن نہیں؟ کیا وہ کسی کی بیٹی نہیں ؟ کیا اس کے بھائی خود دار نہیں؟ کیا وہ کسی کی عزت نہیں؟
پھر مدبر شخص نے عاشق لڑکے کی طرف توجہ دی اور پوچھا، کیا تم اس چیز کو برداشت کروگے کہ کوئی آپ کی بہن کے ساتھ ویلنٹائن ڈے منائے ؟ اگر نہیں تو پھر آپ کسی کے بہن کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو؟ اور کیا آپ کو اس کا یقین ہے کہ کوئی لڑکا آپ کی بہن کو آپ کی طرح سرخ گلاب نہیں دے رہا ہوگا، بالکل ہو سکتا ہے، کیوں کہ جو جیسا بوتا ہے ویسا ہی کاٹتا ہے۔ لڑکے نے مضطربانہ انداز سے پہلو بدلا اور گردن جھکالی، گویا ہتھیار ڈالدئے۔
مدبر شخص ذرا توقف کے بعد پھر گویا ہوئے: یہ بات ناقابل براداشت ہے کہ کوئی ہماری بہو، بہن بیٹی کے ساتھ برا برتاؤ کرے، لیکن ہمارے لئے روا ہے کہ ہم سب کی بہن بیٹی کے ساتھ ہر طرح کا برا برتاؤ کر سکتے ہیں۔
آج مسلمان پوری طرح فرنگی تہزیب کے شکنجے میں آچکے ہیں، فحاشی، عریانی، بے شرمی، بدتمیزی، بد تہذیبی، بد کاری بد اخلاقی سب مسلمانوں کا شیوہ ہے۔
اب اس ویلنٹائن ڈے کو دیکھو، خواہ یہ کسی رومی بادشاہ کے شیرنی کا دودھ نوش کرنے کے بعد بنایا جاتا ہو، یا کسی عیسائی پادری کی پوشیدہ شادی اس کا سبب ہو، چاہے کسی رومی دیوتا کی عقیدت میں ہو یا پھر کسی غیر مذہب کی عید ہو، لیکن مسلمان تو بے چارے ٹھرے جمہوریت کے پجاری، اب بھلا وہ اس شرکیہ اور غیروں کے تیوہار کو کیوں نہ منائیں؟ اب آپ ذرا ان سادہ لوح فرزندان اسلام کو بھی دیکھیں ! کہ یہ ان فرنگیوں کی مکاری نہ سمجھ پائے، اور ان دشمنان خدا نے کیسے کیسے پروپیگنڈے کئے، جس فحاشی اور بے شرمی کو انہوں نے ویلنٹائن ڈے کہکر پوری دنیا پر مسلط کیا، پھر صحیح 9 مہینے بعد چلڈرن ڈے کی سوغات دیکر اس کو ہضم کرنے اور جائز کرنے کی پوری پوری کوشش کی، لہذا یہ کار حرام بھی خوشی سے برداشت کرو! اور اس کے ذریعہ پیدا ہونے والی حرام اولاد کو بھی خوشی سے اپناؤ!

۔
۔
ختم شدہ
۔
۔
دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی

Sunday, 8 February 2015

یلنٹائن ڈے( یوم عشاق یا یوم محبت)

یلنٹائن ڈے( یوم عشاق یا یوم محبت)

مولانا صابر آزاد قاسمی کے قلم سے

انسانوں کے مابین آپسی تعلقات فطرت،الہی قوانین اور اخلاقی اقدار کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہوتے ہیں جن میں انحراف وبگاڑ،بے شرمی وبے حیائی اور غیر اخلاقی روابط کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ خلاف ِفطرت اور منافی أقدار روابط باہمی تعلقات کے چشمہ صافی کو گدلا کر دیتے ہیں اور انسانی معاشرہ کو اخلاقی پستی اور انحطاط وزوال کا شکار بنا دیتے ہیں، اسی طرح ایک مسلمان کے سامنے ہر وقت اس بات کا رہنا بھی ضروری ہے کہ اس کے لئے کسی دوسرے مذہب، تہذیب اور اقدار کی تقلید اس کے عقیدہ کے بالکل برعکس ہے، غیروں کی تقلید،ان کے ساتھ مشابہت اور کسی طرح کی بھی شرکت ایک مسلمان کو دین سے خارج کر سکتی ہے۔
    دور جدید کی جن بہت سی اخلاق سوز وایمان سوز خرافات سے مسلمان متأثر ہو رہے ہیں ان میں ویلنٹائن ڈے( یا یوم عشاق یا یوم محبت) اسلامی وانسانی معاشرہ کو اخلاقی اعتبار سے دیوالیہ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے،ماہِ فروری کے آتے ہی آوارہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں چودہ فروری کے دن کو منانے کی بے ہودہ تیاریاں شروع کر دیتے ہیں،اور پھر اس دن اخلاقی اقدار کو جس طرح پامال کیا جاتا ہے اس سے انسانیت کی نگاہیں شرم سے جھک جاتی ہیں،ایک مسلمان کے لئے اس دن کی اصل حقیقت سے آگاہ ہونا ضروری ہے تاکہ اس کو یہ معلوم رہے کہ یہ ایک مشرکانہ ،غیر اسلامی،اسلامی عقیدہ کے منافی اور اخلاق سوز وایمان سوز عمل ہے جس سے اجتناب نہایت ضروری ہے۔
    چودہ فروری کو منایا جانے والایہ دن’’ویلنٹائن ڈے‘‘قدیم بت پرست رومیوں اور دور حاضر کے عیسائیوں کی عید ہے،جس کو وہ اپنے مشرکانہ عقیدہ کے اعتبار سے’’خدائی محبت‘‘کے اظہار کے طور پر مناتے ہیں،اور اس کی اصل کے بارے میں بت پرست رومیوں اور ان کے عیسائی وارثین کے ہاں مختلف من گھڑت کہانیاں بیان کی جاتی ہیں:
    ایک قصہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ تقریبا اٹھارہ سو سال پہلے روم شہر کے بانی’’رویلوس‘‘کو ایک شیرنی نے دودھ پلایا جس سے رومیوں نے یہ عقیدہ بنالیا کہ ان کے بادشاہ میں طاقت وقوت اور فکری ودماغی صلاحیت اس دودھ کی وجہ سے پیدا ہوئی ،اس لئے اس کی پوجا کرنے لگے اور اس واقعہ کی یاد میں چودہ فروری کو عید کے طور پر منانے لگے،اس دن کی خاص بات یہ ہوتی تھی کہ ایک کتا اور بکری ذبح کرتے اور دو مضبوط نوجوانوں کے جسموں پر اس کتے اور بکری کا خون دودھ ملا کر مَلتے،اس کے بعد ان نوجوانوں کی قیادت میں ایک بڑا جلوس گلیوں اور شاہراہوں سے گذرتا،ان دونوں نوجوانوں کے ہاتھ میں چمڑے کے دو ٹکڑے ہوتے جن کو وہ اپنے جسم سے مَل کر سامنے آنے والے ہر مردوعورت کے جسم پرمارتے،رومی عورتیں بڑی خندہ پیشانی سے شفایابی اور اولاد کی امید میں چمڑے کی مار قبول کرتیں، اس طرح سے یہ دن منایا جاتا تھا،اس پر مزید یہ اضافہ ہوا کہ بعد میں جب تقریبا ۲۹۶م میںروم پر’’کلاڈیس‘‘حاکم بنا تو شادی شدہ لوگ فوج میں بھرتی ہونے سے کترانے لگے،جس کی وجہ سے اس نے شادی کو غیر قانونی قرار دے کر ممنوع قرار دیا۔’’ویلنٹائن ‘‘نامی پادری نے بادشاہ کے حکم کو ظالمانہ قرار دے کر خفیہ شادی رچا لی،اور گرجا گھر میں چپکے چپکے لوگوں کی شادیاں کرنے لگا،بادشاہ کو خبر لگی جس کے نتیجہ میں اس کو سزائے موت ہوئی،پھر رومیوں نے جب عیسائیت قبول کی تو اس کی یاد میں پھانسی کی جگہ ایک گرجا گھر بھی بنادیا گیا اورچودہ فروری کو ’’وینلٹائن ڈے‘‘کے نام سے موسوم کیا گیا۔
    ایک قصہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ بادشاہ’’کلاڈیس‘‘ایک بت پرست رومی بادشاہ تھا لیکن ’’ویلنٹائن‘‘نے بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر لی جس کی وجہ سے چودہ فروری کو اسے سزائے موت دی گئی، لیکن جب رومیوں نے خود عیسائیت قبول کر لی تو پوپ’’ویلنٹائن‘‘کی سزائے موت کے دن کو’’یوم شہید محبت‘‘کے طور پر منانے لگے،سزائے موت سے پہلے جیل میں جیلر کی بیٹی سے محبت ہونے کے نتیجہ میں پھانسی کا قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے، اور بھی ویلنٹائن ڈے کے حوالہ سے مختلف قصے بیان کئے گئے ہیں جن کو ’’انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا‘‘میں ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے درج کیا گیا ہے۔
    بنیادی سبب کچھ بھی ہولیکن اتنا متعین ہے کہ یہ دن مذہبی عقیدہ کے حوالے سے وجود میں آیا ہے اور رسومات وتحریفات کے مختلف مراحل سے گذر کر مغربی اقوام کی تہذیب کا ایک شرمناک باب قرار پایا ،جس کی بعض مشرقی اقوام بھی بڑے فخر سے تقلید کر رہی ہیں۔
    بلاشبہ اس کی اصل بنیاد رومیوں کا ایک مشرکانہ عقیدہ ہے،جس میں ایک مخصوص بت کے لئے ’’خدائی محبت ‘‘کااظہار کیا جاتا تھا،لہذا جو بھی اس دن کو مناتا ہے یا منانے والوں کا کسی بھی اعتبار سے ساتھ دیتا ہے تو وہ شرک وبت پرستی کی تعظیم وتشہیر کا مرتکب ہوتا ہے جس کی اسلام میں قطعا کوئی گنجائش نہیں ہے،شرک ایک ایسا خطرناک جرم ہے جس کو اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں کر سکتا ہے،دیکھئے سورہ زمر،آیت:۶۵،۶۶ اور سورہ نسائ، آیت:۱۱۶)
    اسی طرح یہ دن متعدد قصے اور کہانیوں سے مربوط ہے جن کو انسانی عقل کسی بھی درجہ میں قبول کرنے سے قاصر ہے،چہ جائے کہ ایک مومن ومسلم کی عقل،ایک شیرنی کا دودھ پلانا اور پھر اس دودھ کی وجہ سے طاقت وقوت اور دماغی صلاحیت کا پیدا ہونا۔۔۔خرافات کے علاوہ اورکیا ہے؟!کیا ایک مسلمان جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ طاقت وقوت دینے والا اللہ ہے اس طرح کی خرافات کو تسلیم کر سکتا ہے، اسی طرح کتے اور بکری کا ذبح کر کے جسموں پر ملنا اور شفایابی اور اولاد کی امید کرنا۔۔۔کیا ایک مسلمان کے عقیدہ سے میل کھاتا ہے؟۔
    جب اس ویلنٹائن ڈے نے اخلاقی بگاڑ اور فساد کی خطرناک شکل اختیار کی تو عیسائی پادریوں نے بھی اس فساد وبگاڑ کی وجہ سے کیتھولک عیسائیت کے مرکز اٹلی میں اس کو کالعدم قرار دیا،لیکن بعد میں اس کو دوبارہ منایا جانے لگا اور مغربی ممالک میں عام ہو کر مسلم ممالک میں بھی دَر آیا،لہذا جب عیسائی پادریوں تک نے اس وقت اس کے خطرناک نتائج کو دیکھتے ہوئے اس پر نکیر کی اور اس کو کالعدم قرار دیا تو مسلمان تو بدرجہ أولی اس پر نکیر کرنے اور اس سے اجتناب کرنے کے مستحق ہیں،خاص طور پر اس دن کو جس طریقہ سے منایا جاتا ہے،جہاں اخلاق واقدار کی تمام حدود کو پھلانگ کر بے شرمی وبے حیائی کو کھلے عام جواز فراہم کیا جاتا ہے،غیر اخلاقی وغیر قانونی تعلقات کو تہذیب وتمدن کی علامت سمجھا جاتا ہے،اظہار محبت کے لئے تمام حجابات وا کر دئے جاتے ہیں،باروں،ہوٹلوں،پارکوں اور مختلف مقامات پر رقص وسرور کی شیطانی محفلیں سجا کر ہر قسم کے شہوانی ارمان بے حجابانہ طور پر پورے کئے جاتے ہیں،تمام انسانی واخلاقی قدروں کو پامال کیا جاتا ہے،اور فحاشیت وعریانیت اور بے حیائی کا ایسا ننگا ناچ ہوتا ہے جس کو دیکھ کر اور سن کر سلیم الفطرت انسان الأمان والحفیظ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے،تو کیا امت مسلمہ کے ایک غیرت مند نوجوان اور عفت مآب دوشیزاؤں کے لئے یہ دن کسی بھی درجہ میں محترم ومقدس ہو سکتا ہے؟!اور کیا ایک مسلمان کا ضمیر اس طرح کے فحش اور حیاسوز’’یوم عشاق‘‘کو منانے کے لئے تیار ہو سکتا ہے؟!
    اسلام محبت کا دشمن نہیں ہے بلکہ محبت ومودت کا دین ہے اور محبت کو صحیح اور فطری رخ عطا کرتا ہے،انسان کو فحاشیت ،بے حیائی اور بے شرمی سے دور رکھتا ہے،جذبہ محبت کو بے لگام کر کے ہوس رانی اور عیش پرستی سے بچاتا ہے،اخلاقی اقدار وآداب کو اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے،اسلام جائز محبت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے،اس کو پروان چڑھاتا ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں انسان کو مقامِ بلند عطا کرتا ہے،جیسے کہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت،ماں باپ سے محبت،رفیقہ حیات سے محبت،عزیز واقارب سے محبت،وغیرہ،مرد وعورت کا رشتہ ایک پاکیزہ رشتہ ہے،جس کو گدلا کرنے سے فطرتِ انسانی بھی ابا کرتی ہے،لیکن جہاںصرف شہوانیت اور حیوانی جذبات کی تکمیل مقصود ہو، انحراف وبگاڑ،بے حیائی وبے شرمی اور شیطانی جذبات کا رفرما ہوں ،تو ایسی شہوانی اور شیطانی محبت کو اسلام ممنوع اورحرام قرار دیتا ہے،ویلنٹائن ڈے اسی طرح کی شہوانی اور شیطانی جھوٹی محبت سے مرکب ہے،جو کسی بھی باغیرت معاشرہ کے لئے موت سے بھی زیادہ خطرناک ہے،یہ زوال وپستی کی ایسی خطرناک دلدل ہے جس میں معاشرہ شیطان کی آماجگاہ بن کر بالکل کھوکھلا ہو جاتا ہے،جوانوں کی صلاحیتیں شیطانی خیالات اور شہوانی أمنگوں کی نذر ہوجاتی ہیں۔
    مسلمانوں کی دو عیدیں توقیفی ہیں،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں مسلمانوں کے لئے دو ہی عیدیں متعین فرمائی ہیں،اس’’محبت کی عید‘‘کی اسلامی معاشرہ میں کوئی بنیاد نہیںہے،خاص طور پر جب کہ اس میں غیروں سے مشابہت بھی پائی جاتی ہے،آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ:’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے‘‘۔(سنن أبی داؤد)یقینا یہ دن منانے میں بت پرستوں اور یہود ونصاری سے مشابہت ہوتی ہے جو ایک مسلمان کو کسی بھی اعتبار سے زیب نہیں دیتا ہے۔
    اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے لئے دنیاوی واخروی سخت عذاب کی وعید سنائی ہے جو ایمان والوں میں فحاشیت وبے حیائی عام کرنا چاہتے ہیں،یا بے حیائی کو عام کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں،ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’بلاشبہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی عام ہو ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ہو‘‘۔(سورہ نور،آیت:۱۹)
    ویلنٹائن ڈے فحاشیت وعریانیت اور بے حیائی عام کرنے کا ذریعہ ہے،یہ اسلامی عقائد واصولوں کے بالکل منافی ہے،معاشرہ کو اخلاقی اعتبار سے دیوالیہ بنانے کی منصوبہ بند سازش ہے،اس کے منانے میں یہودونصاری اور بت پرستوں کی تقلید ومشابہت ہے،یہ اسلامی وانسانی غیرت کے لئے ایک چیلنج ہے،اس سے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی عزت کو پامال کرنا مقصود ہے،اس کے ذریعہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو شیطانی رخ دے کر ان کو زوال وپستی کی دلدل میں دھکیلا جاتا ہے،یہ ماں باپ کے لئے ایک رسوا کن عمل ہے،یہ ایمان سوز بھی ہے اور اخلاق سوز بھی،بے حیائی کو عام کرنے والے یاد رکھیں کہ سب سے پہلے انہی کے گھر اس سے متأثر ہو کر تباہ وبرباد ہوتے ہیں،حیا کے کلچر کو عام کیجئے کیوںکہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:’’جب تم سے شرم وحیا رخصت ہو جائے تو پھر جو چاہو کرلو‘‘(صحیح بخاری)۔

                                                                   صابر آزاد قاسمي

ویلنٹائن ڈے ۔ قسط 2

ویلنٹائن ڈے
۔
قسط 2
۔
۔
ازقلم: چاہت محمد قاسمی
مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ

۔
۔
سرخ گلاب کو اپنی مٹھی میں پکڑ کر اس طرح مسل دیا تھا جیسے ساری خطا اسی گلاب کی ہو، یہی گلاب تمام خطاؤں کی جڑ ہو، لیکن دوسرے ہی لمحے رخسارِ خوشنما پر پڑنے والے طمانچہ نے جہاں اس کے لئے دن میں تاروں کی مثال قائم کی وہیں اس کے رخسار پر اس معتوب گلاب کی طرح پانچ دھاریوں کے آثار واضح نظر آرہے تھے۔ اچانک گال پر پڑنے والے اس طمانچہ نے کچھ دیر کے لئے اس پر سکتہ جیسی کیفیت طاری کردی تھی۔ وہیں دوسرے ہی لمحہ کسی پھوہڑ عورت کی طرح گالیوں کا طوفان اس کی زبان سے اسی طرح جاری ہوا جیسے کوئی گنوار بھو اپنی ساس کے لئے سوغات ادا کرتی ہے، اور اس سے پہلے کہ اس کا ہاتھ عاشق کے گریبان تک پہنچتا پاس میں موجود افراد بیچ بچاؤ کے لئے اسی طرح کود پڑے جیسے یہی ان کی مثالی عادت ہو۔
اس جنگ و جدل میں صلاح کے لئے کوشاں چند افراد میں سے بارعب، ادھیڑ عمر کے شخص نے اپنی ذہانت اور ذکاوت کی ایک طائرانہ نگاہ مجمع پر ڈالی اور ایک طرف سہمی ہوئی لڑکی اور غیر مہذب لوگوں کی طرح لڑنے والے دو نوعمر لڑکوں کو دیکھا تو معاملہ کی نوعیت کچھ سمجھ میں آئی، وہ صاحب آگے بڑھے اور عاشق سے معاملہ کی نوعیت کے متعلق استفسار کیا، اس نے بڑے غصہ میں بڑے بپھرے ہوئے انداز میں الفاظ کو چباتے ہوئے اپنی داستان عشق بیان کرتے ہوئے کہا کہ جناب میں اس حسن بےپرواہ ، ماہ جبیں، خوبصورت مثل پری کو پسند کرتا تھا، آج ویلنٹائن ڈے کے موقعہ کو عشق کے لئے ذریعۂ غنیمت جان کر صبح سویرے اپنی نیند کی قربانی دیکر مالی کی دکان پر پھول خریدنے کے لئے پہنچا لیکن جب گلاب کی گرانئ قیمت کا علم ہوا تو اپنے پرس میں چھپی ایک ایک پائی جمع کرنے کے بعد بھی گلاب کی قیمت تک نہ پہنچا سکا۔ پھر مالی کی خوشامند سے کام چلانے کی کوشش کی حالانکہ میں نے آج سے پہلے کسی کے ساتھ بھی خوشامندانہ رویہ روا نہیں رکھا تھا لیکن پھر بھی میں نے سوچا عشق کے لئے اتنی خواری تو برداشت کرنی ہی پڑے گی، لیکن اس وقت مجھے اس خوشامندانہ روئے سے نفرت محسوس ہوئی جب مجھے اس مالی نے کم قیمت میں گلاب دینے سے منع کردیا بس پھر مجھے ناچاہتے ہوئے بھی اپنے پرس میں موجود 786 کے ایک نوٹ کو قربان کرنا پڑا، لیکن جب بہت سی قربانی اور جہد مسلسل کے بعد عشق میں کامیابی کا وقت قریب سے قریب تر ہوا اور امید قوی تھی کہ میری معشوق میری محبت کو شرف قبولیت سے نواز دے گی تو عین اسی وقت اس انجان شخص نے آکر میری محبت کے معاون سرخ گلاب کو اس طرح مسل دیا گویا کوئی ناگوار شئے اس کے قبضہ میں آگئی ہو، بس پھر میں کیا نہ کرتا……  عاشق نے ٹھنڈی سانس لیکر کھاجانے ولی نظر سے اس نووارد خوبصورت شخص کو دیکھا اور دوچار گالیوں کے بعد کہا: اگے کی کہانی اس سے معلوم کرو جس کے رخسار پر پانچ خط نظر آرہے ہیں۔
بڑے میاں اس خوبصورت لباس، اور بنے سنورے لڑکے کی طرف متوجہ ہوئے اور استفسارانہ انداز میں اس کی طرف دیکھا………………

جاری، جاری، جاری۔
۔
۔
۔
دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی

Wednesday, 4 February 2015

ویلنٹائن ڈے

ویلنٹائن ڈے
۔
۔
ازقلم: چاہت محمد قاسمی
مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ

۔
۔
ہاتھ میں سرخ گلاب، چہرے پر مسکان، بدن پر دیدہ زیب قیمتی لباس، پاوں میں شاندار جوتے، سرکے بال تو نئے اسٹائل کے ساتھ بہت خوشنما معلوم ہوتے تھے، ہر حال سے یہ نوعمر خوبصورت نوجوان؛ انسان کم شو پیس زیادہ معلوم ہوتا تھا۔
اس کے چہرے کی بشاشت اور مسکراہٹ سے معلوم ہوتا تھا کہ اس کو آج بہت کچھ حاصل ہوا ہے، کوئی ایسی چیز جس کے حصول کا یہ مدتوں سے طالب تھا، کوئی ایسی شئی جس پر اس کا دل برسوں سے عاشق تھا، کوئی ایسی شئی جس کو یہ پانے کے لئے بے تاب تھا، شاید اسی لئے یہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا کسی منزل کی طرف رواں دواں تھا، لیکن اس کی چال اور اس کی نروس نیس اس بات کا پتہ بھی دے رہی تھی کہ اس کو اس کی مطلوبہ چیز اب تک حاصل نہیں ہوئی ہے، ہاں اس کے اطمنان، سکون، اور انداز سے ایسا احساس بھی ہویدا تھا جو اس کے مقصود کی آسانی کی طرف اشارہ کر رہا تھا، گویا اس کا مقصد آج حاصل ہوہی جائے گا، آج وہ مطلوب تک پہنچ ہی جائے گا، آج وصل یار، قرب معشوق فیض یاب ہوہی جائے گا۔
لیکن اچانک اس کی چمکیلی مردانہ آنکھیں ایک جانب پڑی۔ وہاں دیکھا کہ اس کے سرخ گلاب جیسا ہی ایک گلاب کسی لڑکے کے ہاتھ میں ہے اور وہ بھی اپنی تمام تر مرادانہ وجاہت اور بشاشت کے ساتھ یہ سرخ گلاب ایک لڑکی کو دے رہا ہے، بس پھر یہ ہوا کہ اس کے بڑھتے قدم رک گئے، اس کی چال پہ گویا ڈسک بریک مار دیا گیا ، اس کے پاؤں بالکل جام ہوگئے، اور اس پر سکتہ سا طاری ہوگیا، لیکن یہ کیفیت زیادہ دیر باقی نہ رہ سکی اور اس کی خوشنما پیشانی شکن آلود ہوئی، چہرہ سرخ ہوگیا،جبڑے سخت ہوگئے، مٹھیاں بھنچ گئیں …………

جاری، جاری، جاری۔
۔
۔
۔
دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی

Tuesday, 3 February 2015

نااہل سردار

نااہل سردار
۔
۔
ازقلم: چاہت محمد قاسمی
مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ
۔
۔

کسی عزیز کے انتقال کے بعد قبرستان میں مفکرانہ، مدبرانہ، اور حاکمانہ انداز میں بھاشن دینے والے حضرات ہر جگہ نظر آئیں گے، جھریوں والا چہرا بغیر داڑھی کے چھوارہ نظر آتا ہے، سر پر تھوڑے بالوں کو بھی اکثریت ظاہر کرنے کی کوشش اسی طرح کی گئی ہوتی ہے، جیسے کوئی قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے، یہ وہی حضرات ہوتے ہیں جن کا حدیث میں اس طرح ذکر آیا ہے، کہ ‌علامات قیامت میں سے یہ بھی ہے کہ نا اہل کو سردار بنایا جائے گا۔
یہ بالکل پوری طرح سچ ہورہا ہے، ہر قوم، خاندان، محلہ، بستی، گاؤں، شہر، حتی کہ مساجد کے متولی، مدرسوں کے صدور، قبرستانوں کے ذمہ داران یہی نا اہل اشخاص نظر آئیں گے، بڑھاپے میں جوان بننے کی کوشش میں آثار قدیمہ کی غیر مرمت شدہ امارت نظر آنے والے عجیب ہیئت کے یہ حضرات اپنے آپ کو  بڑے مفکر، بہت بڑے عالم، اور عظیم الشان شہنشاہ تصور کرتے ہیں، ان کا خیال ہے معلومات اسلام، سیاست، اور قیادت میں یہ ماہر ہیں، ان کا فیصلہ اٹل، بات اکمل، اور انداز احسن ہے، انہیں کوئی بات سمجھانا، گونگے سے تلفظات کی ادائیگی کا مطالبہ کرنے سے بھی زیادہ سخت ہے، بدیگر الفاظ لوہے کے چنے چبانا ہے، بیگ گراؤنڈ دیکھا جائے تو اپنے گھروں میں بھیگی بلی، اور مایوس کن زندگی گذارنے والے حضرات ہمیشہ دوسروں کو حقیر سمجھتے اور برا کہتے نظر آئیں گے، گالی گلوچ، عیب جوئی، خود نمائی، ریاکاری، زبان زوری، اکڑ، بڑائی، حسد، بغض، ان کا محبوب مشغلہ نظر آئے گا، اور افسوس بلکہ صد افسوس یہ ہے کہ یہ ناسور اور گھن کی حیثیت رکھنے والے حضرات ہمارے دنیوی امور ہی نہیں بلکہ دینی امور میں بھی دخل انداز ہوتے ہیں، اسی لئے مساجد مدارس اور قبرستان میں کبھی کبھی بلا ارادہ، مجبورا جاتے ہیں اور ہزار بھاشن، وعدے وعید، نیم، قسم، سوگند وغیرہ کسی کو بولنے کا موقع دئے بغیر اٹھا لیتے ہیں، اور پھر کسی کی موت تک قبرستان میں نظر نہیں آتے، نہ جمعہ کے علاوہ مساجد میں دکھائی دیتے ہیں، اور نہ جلسہ جلوس کے علاوہ کسی مدرسہ میں وارد ہوتے ہیں۔
اب آپ ہی بتائیے ان کو کیا کہا جائے۔

۔
۔
۔
دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی