ہندوستانیو اور پاکستانیو!
۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مسلم کش فسادات کے ذریعہ مسلمانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے، مسلم عورتوں کو بے آبرو کیا جاتا ہے،
بے قصور مسلم نوجوانوں کو پس زندان مقید کردیا جاتا ہے، اور مسلمان کی حیات تنگ سے تنگ تر کردی جاتی ہے۔ اور یی کہنا کوئی غلط نہیں ہوگا کہ مسلمانوں کو ظلم و ستم کی چکی میں پیس دیا جاتا ہے ۔
لیکن ہندوستانی مسلمان صبر کرلیتے ہیں یہ سوچ کر کہ مقتول شہید ہیں، مجروح اور متاثرین مظلوم ہیں۔ اور ظالم کی فہرست میں کوئی مسلمان نہیں ہے، یہاں ایک دوسرے کو قتل کرنے ولے مسلمان نہیں ہیں، اور مسلمان ہمیشہ مظلوم کہلایا جاتا ہے۔
لیکن سرحد کے اس پار جس کا نام پاکستان رکھا گیا تھا جس کو اسلام کے نام پر مسلمانوں کے لئے بنایا گیا تھا وہاں مسلمان ایک دوسرے پر ظلم ڈھاتا ہے، مسلمان مسلمان کی گردن کاٹتا ہے، مسلمان مسلمان کو زندہ نذر آتش کردیتا ہے، کبھی مسلم فوج مسلمانوں پر خود بم اور بارود کی برسات کرتی ہے، اور کبھی مسلم حکمراں کافر اور اسلام دشمن طاقتوں سے ڈرون حملے کراکر پیسے وصول کرتے ہیں۔ غیرمسلموں کی طرح رنگ کا تیوہار ہولی مسلمان آئے روز مسلمان کے خون سے کھیل کر مناتے ہیں۔ وہاں مظلوم بھی مسلمان اور ظالم بھی مسلمان ہوتا ہے۔ وہاں مقتول بھی مسلمان اور قاتل بھی مسلمان ہوتا ہے، لٹنے والا بھی مسلمان اور لوٹنے والا بھی مسلمان ہوتا۔
۔
راز کی بات یہ ہے کہ وہاں سب اپنے آپ کو اللہ کے بندے، مسلمان، نیک صالح، عبادت گذار، مجاہد اور برحق مانتے ہیں اور دوسرے کو بدماش، کافر، مرتد، مشرک، اور برا کہتے ہیں۔ انسانیت شرمسار ہوگئی، اسلام پر انگلی اٹھنے لگی، مسلمان بدنام ہوگیا اور کلیجہ منہ کو آگیا اس وقت جب ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کے معصوم لخت جگر اور چھوٹے بچوں کو قتل کر کے کہدیا کہ آج ہم نے اپنے بچوں کا انتقام لے لیا۔
۔
کیا ہے اسلام کے نام پر مسلمانوں کے لئے بنایا جانے والا ملک ہے.؟
۔
۔
۔
دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی
Thursday, 25 December 2014
ہندوستانیو اور پاکستانیو!
میرے خیالات بچوں کے حصول علم کے متعلق۔
میرے خیالات بچوں کے حصول علم کے متعلق۔
۔
۔
ازقلم: چاہت محمد قاسمی
مدرسہ فیض العلوم یاسینیہ گنگوہ
۔
ایک شوق دوسرا خوف، کسی بھی بچہ کے لئے علم کا حصول انہیں دو وجہ سے ممکن ہے۔
لیکن ایک بات زیادہ غور و فکر کی حامل ہے کہ ہم لوگ بچوں میں خوف کچھ زیادہ ہی پیدا کردیتے ہیں، ذرا سی بات پر زدوکوب، لعن طعن، اور طرح طرح سے ٹارچر کرنا اتنا زیادہ ہوجاتا ہے کہ بس الامان والحفیظ۔
بے چارا بچہ ایک مرتبہ کسی وجہ سے غیر حاضری کرے، یا حفظ اسباق میں کوتاہی برتے یا پھر اپنی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے کسی غلطی کا مرتکب ہوجائے تو پھر استاذ اس معصوم کو ایسا ریمانڈ پر لیتا ہے کہ گونتاناموبے کے عقوبت خانے شرما جائیں۔ اس کا رزلٹ اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ سے اگر ایک غیر حاضری ہوجاتی ہے تو وہ پٹائی کے ڈر کی وجہ سے دوسری بھی غیر حاضری کر گذرتا ہے، اسی طرح اگر حاضری میں تاخیر ہوجاتی ہے تو وہ غیر حاضری کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے، اور اگر سبق پوری طرح یاد کرکے بھی آئے تو بھی استاذ کے سامنے بچے کے دماغ سے سبق ایسا محو ہوتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔بہت سے بچوں کو اسی وجہ سے تعلیم سے سنیاس لیتے ہوئے دکھا جاسکتا ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ بچے کے دل سے استاذ کا خوف بالکل نابود ہوجائے، یا پھر زجر و توبیخ کے مراحل سے بچے کو کبھی بھی نہ گذارا جائے، بلکہ میری معروضات کا مقصود یہ ہے کہ اس کو صرف آٹے میں نمک کی شرح سے رکھا جائے اور اصل چیز بچے کے دل میں حصول علم کا جذبہ، شوق اور علم کے حاصل کرنے کی تمنی پیدا کی جائے، ان بچوں کو علم کے فضائل میں احادیث اور بزرگان دین کے واقعات سنانے کا نظم بھی کیا جائے اور جس طرح بھی ممکن ہو اور جس طریقہ سے بھی آسان سمجھیں ان طلبہ کے اندر حصول علم کا جذبہ، شوق اور تمنی پیدا کرنے کی پوری پوری کوشش کی جائے،نیز استاذ کو چاہئے کہ کبھی کبھی بچہ کے اسباق وغیرہ کے متعلق کچھ توصیفی جملے بھی کہہ دیا کریں اور شاگردوں کے ساتھ کبھی کبھی ہنس بھی لیا کریں تو بہتر رہے۔
اگر گرمی کی بجائے نرمی کا رویہ رکھیں ، غصہ کی جگہ اپنے اندر قوت برداشت پیدا کی جائے اور حکمت کو پیش نظر رکھا جائے تو علم دین کی خدمت زیادہ بہتر ہوسکتی ہے۔
۔
نوٹ: یہ میرے اپنے خیالات ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ بھی ان سے متفق ہوں۔
۔
دعا کا طالب
چاہت محمد قاسمی








